Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
162 - 691
اللہُ تَعَالٰی عَنْہیہ کام چھوڑ دیجئے،اب آپ لوگوں کے خلیفہ(امیر)ہو گئے ہیں۔‘‘یہ سُن کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :’’ اگر میں یہ کام چھوڑ دُوں تو پھر میرے اہل و عِیال کہاں سے کھائیں گے؟‘‘حضرت سیدناعمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:’’آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہواپس چلئے،اب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے یہ اخراجات حضرت سیدنا ابوعبیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہطے کریں گے۔پھر یہ دونوں حضرات حضرت سیدنا ابوعُبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس تشریف لائے اور ان سے حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:’’ آپ حضرت سیدنا ابو بکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اوران کے اہل و عیال کے واسطے ایک اوسط درجے کے مُہاجِر کی خُوراک کا اندازہ کر کے روزانہ کی خُوراک اورموسم گرما و سرما کا لباس مقرر کیجئے لیکن اس طرح کہ جب پھٹ جائے تو واپس لے کر اس کے عوض نیادے دیا جائے۔‘‘چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےسیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے لیے آدھی بکری کا گوشت،لباس اور روٹی مقرر کر دی۔
 (تاریخ الخلفاء، ص۵۹)
ترک کسب کس کے لیے افضل ہے؟
  میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیدنا امام محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی اِحیاء العلوم میں نقل فرماتے ہیں:’’ترک کسب(نہ کمانا)چارقسم کے آدمیوں کے لئے افضل ہے:(۱)جو عبادات بدنیہ میں مصروف رہتا ہے (۲)وہ شخص جو احوال و مکاشفات کے علوم میں باطنی سیر اور قلبی عمل میں مشغول ہوتا ہے(۳)وہ عالم جو علم ظاہر کی تربیت کرتا ہے ،جس کے ذریعے لوگوں کو اِن کے دین کے بارے میں نفع حاصل ہوتا ہے، جیسے مفتی ،مفسر ،محدث وغیرہ (۴)وہ شخص جو مسلمانوں کے معاملات میں مصروف ہوتا ہے اور اس نے ان کے کاموں کی ذمہ داری اٹھائی ہے، جیسے بادشاہ،قاضی اور گواہ ۔‘‘یہ لوگ جب ان اموال سے کفایت کیے جائیں جو (مسلمانوں کے)مصالح یعنی بھلائیوں کے لئے مقرر ہیں یا اوقاف کے مال سے فقراء و علماء کو دیا جائے تو ان کے لئے مال کمانے میں مشغولیت کی نسبت یہ اُمُور افضل ہیں، اسی لئے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی طرف وحی بھیجی گئی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّ کی حمد کے ساتھ اس کی پاکیزگی بیان کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجائيں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی