Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
161 - 691
تناول فرماتے ۔ یہ تمام حضرات بھوک کے ذریعے آخِرت کے راستے پر چلنے میں مدد حاصل کرتے تھے۔
(احیاء  العلوم ،کتاب کسر الشھوتین، ج ۳،  ص ۱۱۲)
فاقہ مستوں کا واسطہ مولیٰ
بخش دے میری ہر خطا مولیٰ
پورےسال بھر کا فاقہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کئی کئی روز تک بھوکا رہنا ہر ایک کے بس کا روگ نہیں، یہ انہیں حضرات کا حصّہ اور ان کی کرامت تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ انہیں روحانی غِذاحاصِل تھی۔  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے بعض اولیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  چالیس چالیس دن تک نہیں کھاتے تھے بلکہ ہمارے غوث اعظم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم  نے بعض اوقات ایک ایک سال بغیرکھائےپئے گزارا ہے۔شہنشاہ بغداد ہمارے غوثِ پاک عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ خود کھلاتا پلاتاتھا۔چنانچہ میرے آقا اعلی حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کا ایک مبارک شعر ہے :
قسمیں دے دے کے کھلاتا ہے پِلاتا ہے تجھے
پیارا اللہ  ترا چاہنے والا تیرا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صدیق اکبر کایومیہ وظیفہ
حضرت سیدناابن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہحضرت سیدناعطا بن سائب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیعت خِلافت کے دوسرے روز کچھ چادریں لے کر بازارجا رہے تھے،حضرت سیدنا عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے دریافت کیا کہ’’ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکہاں تشریف لے جارہے ہیں؟‘‘فرمایا:’’ بغرضِ تجارت بازار جا رہا ہوں۔‘‘حضرت سیدناعمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:’’ اب آپ رَضِیَ