قیامت اللہ کی رحمت سے سایہ عرش پانے کے لیے آج دنیا میں نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جناب میں سایہ عرش کی بھیک بھی مانگتے رہیے:
یا الہٰی گرمیٔ محشر سے جب بھڑکیں بدن
دامن محبوب کی ٹھنڈی ہوا کا ساتھ ہو
یا الہٰی جب زبانیں باہر آئیں پیاس سے
صاحب کوثر شہہ جودو عطا کا ساتھ ہو
یاالہٰی سرد مہری پر ہو جب خورشید حشر
سید بے سایہ کے ظل لوا کا ساتھ ہو
شیخ طریقت امیر اہلسنت بانیٔ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اعلیٰ حضرت، عظیم البرکت ، مجدددین وملت ،پروانۂ شمع رسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کے اس مبارک کلام (مناجات)کے تینوں اَشعار کی بالترتیب شرح بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ’’(۱)اے میرے معبود ! جب محشر بپا ہو گا اور وہاں کی ہوش ربا گرمی سے لوگوں کے بدن تپ اور جل رہے ہوں گے اُس وقت ہم غلامانِ مصطفےٰکو اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دامن کرم کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا نصیب کرنا (۲)اے میرے پاک پروردگار! قیامت کی خوفناک تپش اور جان لیوا پیاس کی شدّت سے جب زبانیں سوکھ کر کانٹا ہو جائیں اور باہر نکل پڑیں ! ایسے دل ہلا دینے والے ماحول میں صاحبِ جودوسخاوت ، مالکِ کوثر و جنَّت صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ساتھ نصیب کرنا، کاش! کاش! کاش ! ہم پیاس کے ماروں کو صاحبِ کوثر صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیارے پیارے ہاتھوں سے کوثر کے چھلکتے جام نصیب ہو جائیں (۳) اے ربِ کریم! قیامت کے تپتے ہوئے میدان میں کہ جب سورج خوب بپھرا ہواآگ برسا رہا ہو، آہ! ایسی جان گھلانے والی سخت کڑی دھوپ میں جبکہ بھیجےکھول رہے ہوں ، ہمارے اُس سید وسردارصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجن کا دھوپ میں سایہ زمین پر نہ پڑتا تھا کے عظیم الشان