Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
158 - 691
تلاوت میں رونا کارثواب ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے رونا مستحب ہے۔ فرمان مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: ’’قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے روؤ اور رو نہ سکو تو رونے کی سی شکل بناؤ۔‘‘  (سنن ابن ماجہ،باب فی حسن الصوت بالقرآن،  الحدیث: ۱۳۳۷، ج۲، ص۱۲۹)
عطا کر مجھے ایسی رقت خدایا
کروں روتے روتے تلاوت خدایا
گرمیوں میں روزے
حضرت سیدنا ابوبکر بن حفص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ مجھے خبر ملی ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ گرمیوں میں(نفلی) روزے رکھتے اور سردیوں میں چھوڑ دیتے تھے۔ (الزھد للامام احمد، زھد ابی بکر الصدیق، الرقم: ۵۸۵، ص۱۴۱تا ۱۴۲)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی یہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا حد درجہ تقویٰ واخلاص تھا کہ فرض روزوں کے علاوہ نفلی روزے بھی گرمیوں میں رکھتے ،اگر آج ہم اپنی حالت پر غور کریں تو سردیوں میں فرض روزے بھی بہت مشقت کے ساتھ رکھتے ہیں حالانکہ سردیوں میں عموماً دن بہت چھوٹے اور راتیں بہت طویل ہوتی ہیں اور دن میں پیاس وغیرہ بھی بہت کم لگتی ہے جبکہ گرمیوں میں عموما ًدن بہت طویل اور راتیں بہت چھوٹیں ہوتی ہیں اور دن میں پیاس کی شدت بھی زیادہ ہوتی ہے۔یقینا ًیہ دنیا کی گرمی آخرت کی گرمی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں کہ جب قیامت کا دن ہوگا اور سورج سوا میل پر رہ کر آگ برسا رہاہوگا، شدت پیاس سے زبانیں باہر نکل پڑی ہوں گی، لوگ اپنے ہی پسینے میں ڈبکیاں لگا رہے ہوں گے۔اس وقت کی گرمی برداشت کرنا یقینا ًہمارے بس میں نہیں ، لہٰذا دنیا میں ہی اچھے اعمال کرلیجئے، رب کی رضا کو حاصل کرلیجئے، اللہ ورسول عَزَّ وَجَلَّ وَصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو منا لیجئے، اوربروز