بھلا کہے اُس وقت خاموشی میں ہی عافیت ہے اگر چہ شیطان لاکھ وسوسے ڈالے کہ’’ تو بھی اس کو جواب دے ورنہ لوگ تجھے بُزدل کہیں گے،میاں ! شرافت کا زمانہ نہیں ہے اِس طرح تو لوگ تجھے جینے بھی نہیں دیں گے وغيرہ وغیرہ۔‘‘ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اس واقعےپر غور فرمائیے ، آپ کو اندازہ ہوگاکہ دوسرے کے بُرا بھلا کہتے وقت خاموش رہنے والا رحمت الٰہی کے کس قدر نزدیک تر ہوتا ہے۔ چُنانچہ،
کسی شخص نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی موجودگی میں حضرت ِسیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو بُرا کہا، جب اُس نے بہت زیادتی کی توانہوں نے اُس کی بعض باتوں کا جواب دیا (حالانکہ آپ کی جوابی کاروائی معصیت سے پاک تھی مگر ) سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموہاں سے اُٹھ گئے۔سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہحضوراکرم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیچھے پہنچے، عرض کی:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! وہ مجھے بُرا کہتا رہا آپ تشریف فرما رہے ،جب میں نے اُس کی بات کا جواب دیا تو آپ اُٹھ گئے۔‘‘ فرمایا:’’تیرے ساتھ فرشتہ تھا، جو اُس کا جواب دے رہا تھا، جب تونے خود اسے جواب دینا شروع کیا تو شیطان درمیان میں آکودا۔‘‘ (مسند امام احمد،مسند ابی ھریرۃ، الحدیث: ۹۶۳۰ ، ج۳، ص۴۳۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صدیق اکبر اور تلاوت قرآن
تلاوت کرتےہوئے گریہ وزاری
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ میرے والد ماجد حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجب قرآن پاک کی تلاوت فرماتے توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کواپنے آنسوؤں پراختیار نہ رہتایعنی زاروقطار رونے لگ جاتے۔ (شعب الایمان ،باب فی الخوف من اللہ تعالٰی،الحدیث:۸۰۶، ج۱،ص۴۹۳)