Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
156 - 691
ارشاد فرمایا:جسم کاکوئی عضو ایسا نہیں جوزبان کی سختی کی شکایت نہ کرتاہو۔‘‘
(شعب الایمان، باب حفظ اللسان،  فصل فی فضل السکوت۔۔۔الخ، الحدیث: ۴۹۴۷، ج۴، ص۲۴۴)
قفل مدینہ کے لیے منہ میں پتھر
دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ۴۱۵صفحات پر مشتمل کتاب ’’اِحیاء العلوم کا خلاصہ‘‘ ص ۲۳۴ پر ہے: ’’حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے منہ میں چھوٹے چھوٹے پتھر رکھتے تھے، جن کے ذریعے (فضول)گفتگو سے پرہیزکرتے۔‘‘
زبان کا قفل مدینہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے فضول بات سے بچنے کے مدنی نسخے کی کیا بات ہے ۔واقعی اگرزبان کا قفل مدینہ لگانا نصیب ہوجائے توہم بہت سارے گناہوں سے بچ سکتے ہیں، زبان کے قفل مدینہ کے بارے میں دو احادیث پیش خدمت ہیں:
(1)حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ سرکار مدینہ، راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’مَنْ صَمَتَ نَجَا یعنی جو چپ رہا اس نے نجات پائی۔‘‘
(سنن الترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق، باب ما جاء فی صفۃ اوانی الحوض، الحدیث: ۲۵۰۹، ج۴ ، ص۲۲۵)
(2)حضرت سیدنا عمران بن حصین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ نبیوں کے تاجدار، رسولوں کے سالار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’خاموشی پر قائم رہنا ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ ‘‘
(شعب الایمان،باب حفظ اللسان،  فصل فی فضل السکوت ۔۔۔ الخ، الحدیث: ۴۹۵۳، ج۴، ص۲۴۵)
جوابی کاروائی پر شیطان کی آمد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہر وقت زبان کا قفل مدینہ لگانے کی کوشش کیجئے خصوصا ًجب کوئی ہم سے اُلجھے یابُرا