گناہ سے باز رہنے سے بڑھ کر کوئی تقوی نہیں
یقینا فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حرام کردہ چیزوں سے بچانے ہی کا نام تقوی ہے چنانچہ حضرتِ سیدنا ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مخزنِ جودوسخاوت صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایاکہ’’اے ابوذر! تدبیر سے بڑھ کرکوئی عقل نہیں اور گناہ سے باز رہنے سے بڑھ کر کوئی تقوی نہیں اور حسنِ اخلا ق سے بڑھ کر کوئی شرافت نہیں ۔‘‘ (التر غیب والترھیب ،کتاب الادب ، باب التر غیب فی الخلق الحسن ، الحدیث:۴۰۵۹، ج۳، ص۳۲۷)
یقینا منبع خوفِ خُدا صِدّیقِ اکبر ہیں
حقیقی عاشقِِ خیرالوری صدیقِ اکبر ہیں
نہایت متّقی وپارسا صدیقِ اکبر ہیں
تَقِی ہیں بلکہ شاہِ اَتقیا صدیقِ اکبر ہیں
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صدیق اکبر اور قفل مدینہ
زبان کی سختی کی شکایت
حضرت سیدنازید بن اسلم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والدسے روایت کرتے ہیں کہ ایک بارحضرت سیدنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آئے تودیکھاکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی زبان کو پکڑکر کھینچ رہے ہیں۔حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پوچھا:’’اے خلیفۂ رسول اللہ ! یہ آپ کیا کررہے ہیں؟‘‘ فرمایا:’’یہی وہ شے ہے جس نے مجھے ہلاکتوں میں ڈال دیا ہے۔ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے