کھاتےہی قے کردی
تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۵۴۸صفحات پرمشتمل کتاب’’فیضان سنت‘‘ جلد اول، باب پیٹ کا قفل مدینہ ،ص۷۷۴پرشیخ طریقت امیر اہلسنت بانیٔ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے تقوی وپرہیزگاری کا ایک انوکھا واقعہ کچھ یوں تحریر فرماتے ہیں:ایک بار حضرتِ سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا غلام آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں دودھ لایا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسے پی لیا ۔ غلام نے عرض کی، میں پہلے جب بھی کوئی چیز پیش کرتا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاس کے متعلق دریافت فرماتے تھے لیکن اِس دودھ کے متعلق کوئی استفسار نہیں فرمایا؟ یہ سن کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے پوچھا :’’یہ دودھ کیسا ہے؟‘‘ غلام نے جواب دیا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بیمار پرمنتر پُھونکا تھا جس کے مُعاوضے میں آج اس نے یہ دودھ دیا ہے ۔ حضرتِ سیدنا صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ سن کر اپنے حلق میں اُنگلی ڈالی اور دودھ اُگل دیا۔اِس کے بعد نہایت عاجِزی سے دربارِ الٰہی میں عرض کیا:’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! جس پر میں قادِر تھا وہ میں نے کر دیا ۔ اس کا تھوڑا بہت حصّہ جو رگوں میں رہ گیا ہے وہ مُعاف فرما دے۔‘‘ (صحیح البخاری،مناقب الانصار، ایام الجاھلیۃ، الحدیث: ۳۸۴۲، ج۲، ص۵۷۱،منھاج العابدین، الفصل الخامس، البطن وحفظہ، ص۹۷)
منبع خوف خداصدیق اکبر ہیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے !حضرتِ سیدنا صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکتنے زبردست مُتقی تھے۔ کُفّار اکثرکُفریہ کلمات پڑھ کر مریضوں پر جھاڑ پھونک کرتے ہیں۔ دورجاہلیت میں بھی اِسی طرح ہوتا تھا ، اُس غلام نے چونکہ زمانہ جاہلیت میں دم کیا تھا،لہٰذااس خوف کے سبب کہ اس نے کفریہ منترپڑھ کر دم کیا ہوگا، اُس کی اُجرت کا دودھ سیدنا صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے قے کر کے نکال دیا۔