ہیں کہ جس میں ان میں سے ایک بھی نہ ہو کُتّا اس سے بہتر ہے:(۱)ایسا تقوی جو اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حرام کردہ اشیاء سے بچائے (۲)ایسا حلم یعنی بردباری جس سے وہ جاہل کی جہالت کاجواب دے اور (۳) ایسا حسنِ اخلاق جس سے وہ لوگوں کے ساتھ پیش آئے ۔ ‘‘
(شعب الایمان ،باب فی حسن الخلق،فصل فی الحلم۔۔۔الخ،الحدیث:۸۴۲۳،ج۶،ص۳۳۹)
صدیق اکبر کے زھدوتقویٰ پرقران کی گواہی
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تو وہ متقی ہیں جن کے تقوے کو خود قرآن عظیم بیان فرماتاہے۔چنانچہ پارہ۳۰، سورۃ اللیل، آیت نمبر۱۷ میں ارشاد ہوتاہے : (وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ(۱۷))ترجمۂ کنزالایمان:’’اور بہت جلد اس سے دور رکھا جائے گا جو سب سے بڑا پرہیزگار ۔‘‘اس آیت مبارکہ میں سب سے بڑے پرہیزگار سے مراد حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں۔ (تفسیر خزائن العرفان، پ۳۰، اللیل:۱۷)
زہدوتقویٰ میں عیسیٰعَلَیْہ ِ السَّلَام کی مثل
حضرت سیدنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ عَلَى مِثْلِ عِيْسٰى فِي الزُّهْدِ فَلْيَنْظُرْ إِلَيْهِیعنی جو زُہد وتقوی میں حضرت عیسی عَلَیْہِ السَّلَام کی مثل کسی کو دیکھنا چاہے تو وہ ابوبکر صدیق کو دیکھ لے۔‘‘ (الریاض النضرۃ،ج۱،ص۸۲)
آپ کے پاس صرف ایک فدکی کپڑا تھا
حضرت سیدنا ابو رافع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا رفیق رہا ہوں اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس ایک فدکی کپڑا تھا سواری کرتے ہوئے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاسے کانٹوں سے جوڑ کر اوڑھ لیا کرتے تھےاور جب سواری نہ فرماتے تو پھر ہم دونوں اسے استعمال کیا کرتے تھے۔‘‘
(مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب اللباس والزینۃ، فی لبس الصوف، الحدیث:۱، ج۶، ص۳۹)