سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں موجود تھا قرآن پاک کی جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی :( مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِهٖۙ-وَ لَا یَجِدْ لَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا(۱۲۳)) (پ۵، النساء: ۱۲۳)ترجمۂ کنزالایمان:’’جو برائی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا اور اللہ کے سوا نہ کوئی اپنا حمایتی پائے گا نہ مددگار ۔‘‘تو نبیٔ کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اے ابوبکر! کیا میں تمہیں وہ آیت نہ سناؤں جو مجھ پر ابھی نازل ہوئی ہے۔میں نے عرض کیا:’’ جی ہاں کیوں نہیں یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہی آیت مبارکہ تلاوت فرمائی۔جیسے ہی میں نے یہ آیت مبارکہ سنی تو ( اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف کے سبب)مجھے ایسا لگا کہ میری کمر کی ہڈی ٹوٹ جائے گی میں نے درد کی وجہ سے انگڑائی لی تو سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’ اے ابوبکر! (گھبراؤ نہیں)تم اور تمہارے مؤمنین دوستوں کو اس کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیا جائے گا یہاں تک کہ تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ایسی حالت میں ملاقات کرو گے کہ تم پر کوئی گناہ نہیں ہوں گا۔ لیکن دیگر لوگوں کے گناہ جمع ہوتے رہے گے یہاں تک کہ ان کو قیامت کے دن ان کا بدلہ دیاجائے گا۔ (سنن الترمذی، کتاب التفسیر عن رسول اللہ، ومن سورۃ النساء، الحدیث: ۳۰۵۰،ج۵، ص۳۱)
صدیق اکبر کا تقوی وپرہیزگاری
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگرتقویٰ ومجاہدہ رضائے الٰہی کے لیے ہوتو یہی تقوی باعث نجات ہےاور جب کسی انسان کا دل تقویٰ سے خالی ہوجائے تو اس کا ساری عمر رونا بھی اسے کام نہ دے گاکہ سب سے افضل چیز تقوی وپرہیز گاری ہے۔چنانچہ رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :’’سب سے بڑی عبادت فقہ یعنی دین میں غورو فکر کرنا اور دین کی سب سے افضل چیز تقویٰ یعنی پرہیزگاری ہے۔‘‘ (مجمع الزاوئد،کتاب العلم، باب فی فضل العلم، الحدیث:۴۷۹،ج۱،ص۳۲۵)
اللہ کی حرام کردہ اشیاء سے بچانے والاتقویٰ
سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :’’تین خصلتیں ایسی