بارگاہ میں بیٹھے تھے کہ پانی اور شہد لایا گیااورجیسے ہی آپ کے قریب کیا گیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے زاروقطار رونا شروع کردیا اور روتے رہے یہاں تک کہ تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بھی رونے لگ گئے۔صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان روروکے چپ ہوگئے لیکن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روتے رہے ، صحابہ آپ کو دیکھ کر پھر رونے لگ گئے، یہاں تک کہ صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکو یہ گمان ہوا کہ ہمیں معلوم نہ ہوسکے گاکہ کیا بات ہے؟ پھر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی آنکھیں صاف کی توصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی:’’اےرسول اللہ کے خلیفہ! آپ کو کس چیز نے رلایا؟‘‘ فرمایا: ’’ایک بارمیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ اچانک میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا کہ آپ اپنی ذات سے کوئی شے ہٹا رہے ہیں حالانکہ اس وقت مجھے کوئی شے نظر نہیں آرہی تھی، میں نے عرض کیا:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ کس شے کو ہٹا رہے ہیں؟‘‘فرمایا:’’دنیا نے میرا ارادہ کیا تھا میں نے اس سے کہاکہ’’ دور ہوجا۔‘‘ تو اس نے مجھے کہا:’’آپ نے اپنے آپ کو تومجھ سے بچالیا لیکن آپ کے بعد والے مجھ سے نہیں بچ پائیں گے۔‘‘
(شعب الایمان ، باب فی الزھد وقصر الامل، الحدیث:۱۰۵۱۸، ج۷، ص۳۴۳)
اُمید وخوف کی اعلیٰ مثال
حضرت سیدنا مطرف بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےفرمایا:’’اگرآسمان سے کوئی باآواز بلند صدا دے کہ جنت میں صرف ایک آدمی داخل ہوگا تو مجھے امید ہے کہ ایسا میں ہی ہوں گا اور اگرآسمان سے یہ آواز آئے کہ دوزخ میں صرف ایک ہی شخص داخل ہوگا تو مجھے خوف ہے کہ کہیں وہ بھی میں ہی نہ ہوں۔‘‘
(اللمع، مترجم، ص۲۳۳)
خوف خداکےسبب شدید تکلیف
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی