کاش! میں سبزہ ہوتا
حضرت سیدنا قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ مجھے یہ خبر ملی کہ ایک بارحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے یوںفرمایا:’’اے کاش! میں سبزہ ہوتا جسے جانور کھاجاتے۔‘‘
(جمع الجوامع، مسند ابی بکر الصدیق، الحدیث: ۱۷۴، ج۱۱، ص۴۱، الطبقات الکبر ی لابن سعد، ذکر وصیۃ ابی بکر، ج۳، ص۱۴۸)
شعربطور نصیحت
حضرت سیدنا ثابت بنانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیسے مروی ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ شعر بطور نصیحت پڑھاکرتے تھے:
لَا تَزَالُ تَنْعِي حَبِيْباً حَتَّى تَكُوْنَهُ
وَقَدْ يَرْجُو الْفَتٰى الرِّجَا يَمُوْتُ دُوْنَهُ
یعنی اے غافل نوجوان!تواپنے دوستوں کے مرنے کی خبر تودیتارہتاہے کیا کبھی سوچاکہ ایک دن توبھی ان کی طرح بے جان ہوجائے گاکیونکہ بسا اوقات کوئی نوجوان امیدیں پوری ہونے سے پہلے ہی سفر آخرت پرروانہ ہوجاتاہے۔
(الزھد للامام احمد،زھد ابی بکر الصدیق،الرقم: ۵۹۱، ص۱۴۲، تاریخ الخلفاء، ص۸۲)
سب سے زیادہ ڈرنے والے
حضرت سیدنا محمد بن سیرین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:’’سرکارمدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ واحد شخص تھے جو ایسی بات کہنے سے سب سے زیادہ ڈرتے جوان کے علم میں نہ ہوتی۔‘‘ (الطبقات الکبری لابن سعد ، طبقات البدریین، ابوبکر الصدیق، ذکر الغار والھجرۃ الی المدینۃ، ج۳، ص۱۳۲)
فرمانِ رسول کے سبب گریہ وزاری
حضرت سیدنا زید بن اَرقم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ ایک بار ہم حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی