پھرتوبغیر حساب کتاب کے اپنی منزل پہ پہنچ جائے گا۔ اے کاش! ابوبکر بھی تیری طرح ہوتا۔‘‘
(کنز العمال، کتاب الفضائل ،باب فضائل الصحابۃ،فصل فی تفضیلھم، فضل الصدیق، خوفہ، الحدیث:۳۵۶۹۶،ج۶،الجزء:۱۲، ص۲۳۷، شعب الایمان ، باب فی خوف من اللہ، الحدیث:۷۸۸، ج۱، ص۴۸۵)
تعریف پربارگاہ خداوندی میں التجا
حضرت سیدنا ابوحاتم اصمعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیسے روایت ہے کہ جب حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تعریف کی جاتی توبارگاہ خداوندی میں التجاکرتے ہوئے ارشادفرماتے:’’اے اِلٰہَ الْعٰالَمِیْن! تومیری ذات کو مجھ سے بہتر جاننے والا ہے اور میں اپنی ذات کواِن لوگوں سے بہتر جانتاہوں۔اے رَبَّ الْعٰالَمِیْن!مجھے اِن لوگوں سے اچھا بنادے اور میرے اُن تمام گناہوں کو معاف فرمادے جن کا اِنہیں علم نہیںاورمیرے متعلق جو کچھ وہ کہتے ہیں اُن پر میرا مواخذہ نہ فرما۔‘‘ (کنزالعمال، کتاب الفضائل، باب فضائل الصحابہ، فضل الصدیق، شمائلہ واخلاقہ، الحدیث: ۳۵۶۹۹، ج۶، الجزء: ۱۲، ص۲۳۸،تاریخ مدینۃ دمشق، ج۳۰، ص۳۳۲)
مومن صالح کاکوئی بال ہوتا
حضرت سیدنا ابوعمران جونی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی ے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشادفرمایا:’’کاش! میں ایک مومن صالح کے پہلو کا کوئی بال ہوتا۔‘‘ (الزھدللامام احمد، زھد ابی بکر الصدیق،الرقم: ۵۶۰، ص۱۳۸)
کاش! میں ایک درخت ہوتا
حضرت سیدنا حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’خدا کی قسم میں یہ پسند کرتاہوں کہ میں یہ درخت ہوتاجسے کھایااور کاٹاجاتا۔‘‘ (الزھد للامام احمد، زھد ابی بکر الصدیق، الرقم: ۵۸۱، ص۱۴۱)