تحریر فرمادی اور ان پر کسی کو امیر مقرر کرنا چاہا تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مشورہ دیا کہ ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ حضرت سیدنا عثمان بن ابی العاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو امیر مقرر فرمائیں۔‘‘حالانکہ وہ عمر میں ابھی چھوٹے تھے۔ سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: ’’يَا رَسُوْلَ اللہ إِنِّيْ رَأَيْتُ هٰذَا الْغُلَامَ مِنْ أَحْرَصِهِمْ عَلٰى التَّفَقُّهِ فِي الْاِسْلَامِ، وَتَعَلُّمِ الْقُرْآنِ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں نے دیکھا ہے یہ نوجوان اسلام کا گہرا فہم حاصل کرنے اور قرآن کریم سیکھنے کا سب سے بڑھ کر خواہش مند ہے۔‘‘حضرت سیدنا عثمان بن ابی العاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا معمول تھا کہ جب ان کے وفد کے لوگ دوپہر کو چلے جاتے تو یہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوکر دین کے متعلق سوالا ت کرتے اور قرآن کریم سیکھتے اور اس طرح انہوں نے دین کا تفقہ (یعنی سمجھ بُوجھ)اور پختہ علم حاصل کرلیا اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آرام فرمارہے ہیں تویہ سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس چلے جاتے۔ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ سے بہت محبت فرمایا کرتے تھے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی سفارش کو قبول فرمایا اور انہیں بنی ثقیف کا امیر مقرر فرمادیا۔ ( اسد الغابۃ، عثمان بن ابی العاص، ج۳، ص۶۰۰)
صدیق اکبر کا خوف خدا
کاش! ابوبکربھی تیری طرح ہوتا
حضرت سیدنا معاذبن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک باغ میں داخل ہوئے، درخت کے سائے میں ایک چڑیاکو بیٹھے ہوئے دیکھاتوآپ نے ایک آہِ سرد دلِ پردرد سے کھینچ کرارشاد فرمایا:’’اے پرندے! توکتنا خوش نصیب ہے کہ ایک درخت سے کھاتاہے اور دوسرے کے نیچے بیٹھ جاتاہے