’’اگرکوئی قرآن کی تلاوت اسی طریقے اور ہیئت پرکرنا چاہے جیسا وہ نازل ہوا تو اسے چاہیے کہ وہ ابن اُمّ عَبد (یعنی حضرت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)کی طرح قرآن پڑھے۔‘‘ (المستد رک علی الصحیحین،کتاب التفسیر، الحدیث: ۲۸۹۳، ج۲، ص ۲۴۶، مسند احمد بن حنبل،مسند عمر بخطاب، الحدیث: ۱۷۵،ج۱، ص۲۵)
آپ کاخا طی ہونارب کوپسندنہیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور دیگر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مشاورت کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمصیب الرائے تھے اور کیوں نہ ہوتے کہ خود رب عَزَّ وَجَلَّکو بھی آپ کا خاطی ہونایعنی غلطی کرنا پسند نہیں۔چنانچہ،
حضرت سیدنامعاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےمجھے یمن بھیجنے سے قبل صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے مشورہ فرمایا،اس مشورے میں حضرت سیدناابوبکر صدیق،حضرت سیدناعمرفاروق،حضرت سیدناعثمان غنی، حضرت سیدناعلی المرتضی، حضرت سیدنا طلحہ و حضرت سیدنا زبیر اورحضرت سیدناسعید بن حضیر رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن حاضر تھے۔حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر آپ نے مشورہ طلب نہ کیا ہوتا تو ہم کبھی لب کشائی نہ کرتے۔‘‘ چنانچہ ہر شخص نے اپنی سمجھ کے مطابق مشورہ دیا۔ نبیٔ کریم ،رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’اے معاذ! ان مشوروں کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟‘‘میں نے عرض کیا :’’مجھے ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی رائے پسند آئی ہے۔‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’اللہ تعالٰی کو ابوبکر صدیق کا خاطی ہونا(یعنی غلطی کرنا) پسند نہیں ہے ۔‘‘ (المعجم الکبیر،معاذ بن جبل الانصاری ۔۔۔الخ،الحدیث: ۱۲۴،ج۲۰، ص۶۷)
آپ کا مشورہ اور رسول اللہ کی تائید
جب اہل ثقیف نے اپنے اسلام کا اعلان کردیا تو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کے لیے امان