Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
146 - 691
 حضرت عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو جنگی امورمیں مہارت کی وجہ سے ہم پر امیر مقرر فرمایاہے۔‘‘یہ سن کر حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ رک گئے۔   (السنن الکبری للبیھقی،کتاب السیر، باب ما علی الوالی من امر الجیش، الحدیث: ۱۷۹۰۰،  ج۹، ص۷۰)
صدیق اکبر  بحیثیت مشیر
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی فراست اور معاملہ کے سبب حضور نبیٔ کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ سے امور مسلمین میں اکثر مشاورت فرمایاکرتے تھے بلکہ خود رب تعالٰی نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مشاورت کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ چنانچہ،
آپ سےمشاور ت کےلیےحکم الہی
حضرت سیدنا عبداللہ  بن عمر و بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہارشاد فرماتے ہیں میں نے نبیٔ کریم ،رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام میرے پاس آئے اورکہا کہاللہ تعالٰی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوحضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سےمشورہ کرنے کا حکم ارشاد فرماتا ہے۔‘‘
(جامع الاحادیث،الھمزۃ مع التاء،الحدیث: ۳۲۷،ج۱، ص۲۰۵) 
 مسلمانوں کے معاملات میں مشاورت
حضرت سیدنا عمرفاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ نبیٔ کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اکثر رات گئے تک مسلمانوں کے معاملات پرمشاورت اور گفتگو کرتے رہتے تھے،ایک دن حسب معمول حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ آپ سے مصروف کلام رہے،میں بھی بارگاہِ رسالت میں حاضر تھا،نبیٔ کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمباہر تشریف لائے۔ہم بھی باہر آگئے دیکھا کہ ایک شخص مسجد میں نماز پڑھ رہاہے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس کی تلاوت قرآن سننے لگےاور ارشاد فرمایا: