غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ مکہ سے مدینہ ہجرت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سواری پر آگے تشریف فرماتھے اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ آپ کے پیچھے بیٹھے تھے۔چونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تجارتی حوالے سے کافی مشہور تھے اور لوگوں میں آپ کی جان پہچان بھی بہت تھی اس لیے راستے سے گزرنے والے لوگ تعجب سے پوچھتے کہ ’’اے ابوبکر !یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟‘‘توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حکمت سے بھرپور جواب دیتے ہوئے ارشادفرماتے:’’ هَادٍ يَهْدِيْنِي یعنی یہ میرے رہنما ہیں اور راستہ بتانے میں میری رہنمائی کررہےہیں۔‘‘
(مسندامام احمد ، مسند انس بن مالک، الحدیث:۱۲۲۳۶، ج۴، ص۲۴۶)
اور حقیقت میں بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم راہ جنت کے ہادی ہیں، حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کاپیارا جواب آپ کی معاملہ فہمی کی بھرپور عکاسی کرتاہے کہ اس وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اسم گرامی بتانایاان کا کوئی بھی تعارف کرانا سراسر نقصان دہ تھا اس لیے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے توریہ (یعنی ذومعنی بات) سے کام لیا۔
جنگی امورمیں معاملہ فہمی
حضرت سیدنا عبداللہ بن یزید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک لشکرکاسپہ سالاربناکر بھیجا، اس لشکرمیں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق اور حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بھی موجود تھے،جب وہ مقام جنگ پرپہنچے تو حضرت سیدناعمروبن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حکم دیا کہ لشکرمیں آگ روشن نہ کریں۔حضرت سیدناعمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کویہ بات پسندنہ آئی اور حضرت سیدناعمر و بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس جانے کا ارادہ کیاتو معاملہ کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ کو روک دیا اور فرمایا:’’ حضور نبیٔ کریم ،رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے