Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
144 - 691
 ایک انوکھاواقعہ ملاحظہ کیجئے۔ چنانچہ،
صدیق اکبرکی بے مثال فراست
حضرت سیدنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہےکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(حجۃ الوداع سے واپس تشریف لائے اور منبرپر جلوہ افروز ہو ئے اور آپ )نے یوں خطبہ ارشادفرمایا: ’’ایک بندہ ہے جسے اللہ  نے اختیار دیا کہ چاہے تو ہمیشہ دنیا میں رہے اورا س کی بہاریں لوٹتا رہے اور چاہے تواس کے ہاں تیار کردہ نعمتوںکو اختیار کرلے۔تو اس بندے نے جو اس کے رب کےپاس نعمتیں ہیں انہیں اختیار کرلیا۔‘‘سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی اس بات کو کوئی نہ سمجھ سکا کہ کیا معاملہ ہے؟ لیکن حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی عطاکردہ فہم و فراست سے فورا ًسمجھ گئے اورآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور عرض کرنےلگے: ’’یارسولاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان۔‘‘تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان آپ کے یہ کلمات سن کر بہت متعجب ہوئے کہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تو صرف ایک ایسے شخص کا تذکرہ کیاہے جسے یہ اختیار دیاگیا۔ لیکن حقیقت وہی تھی جسے حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےاپنی فراست سے پالیا کہ جس بندے کو اختیار ملا وہ خود نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتھے، مگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے واضح طورپر نہ بتایا تاکہ لوگ غمزدہ نہ ہوں، لیکن یہ راز سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہہی سمجھ پائے کیونکہ وہ فہم وفراست کے اعتبار سے تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں کامل تھے۔
(صحیح البخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی، باب قول النبی سدوا ۔۔۔ الخ، الحدیث: ۳۶۵۴،   ج۲،ص۵۱۷)
صدیق اکبر کی معاملہ فھمی
معاملہ فہمی کی اعلیٰ مثال
جب کفار قریش کے ظلم وستم اوران کی طرف سے دی جانے والی تکالیف کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے