شیخین کریمین یعنی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق اور حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ہیں،ان دو کے علاوہ میرے علم میں کوئی نہیں جورسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانے میںفتوی دیاکرتاہو۔‘‘
(اسد الغابۃ،عبد اللہ بن عثمان ابوبکر،علمہ، ج۳، ص۳۳۰)
صدیق اکبر اور کتابت وحی
علامہ ابن جوزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ارشاد فرماتے ہیں:’’ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کئی اصحاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمایسے ہیں جو کاتب وحی تھےبعض کے اسماء یہ ہیں:(۱) حضرت سیدنا ابو بكر (۲) حضرت سیدنا عمر (۳) حضرت سیدنا عثمان (۴) حضرت سیدنا علي المرتضی (۵) حضرت سیدنا ابي بن كعب (۶) حضرت سیدنا زيد (۷) حضرت سیدنا امیرمعاوية (۸) حضرت سیدنا حنظلة بن ربيع (۹) حضرت سیدنا خالد بن سعيد بن عاص (۱۰) حضرت سیدنا ابان بن سعيد (۱۱) حضرت سیدنا علاء بن حضرمي رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ۔(کشف المشکل من حدیث الصحیحین، ج۱، ص۳۷۲)
صدیق اکبر کی فراست
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنی مایہ ناز مشہور زمانہ تصنیف ’’فیضان سنت‘‘ جلددوم کے باب’’نیکی کی دعوت‘‘ حصہ اول صفحہ ۳۷۰پر فراست کی تعریف کچھ یوں بیان فرمائی ہے: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے اولیاء کے دلوں میں وہ چیز ڈالتاہے جس سے انہیں بعض لوگوں کے حالات کا علم ہوجاتاہے۔‘‘واقعی مومن کے لیےیہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے عطاکردہ نور ہے۔ حضرت سیدنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکار مدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتاہے ۔‘‘ (سنن الترمذی،کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الحجر،الحدیث: ۳۱۳۸، ج۵، ص۸۸)
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اس نور سے بدرجہ اتم معمو ر تھے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی فراست کا