دعوتِ دین دیں ،قافِلے میں چلو
دین پھیلایئے ،سب چلے آیئے
مل کے سارے چلیں قافلے میں چلو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
علم توحید اور صدیق اکبر
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہعلم تعبیر اور علم انساب میں ماہر ہونے کے ساتھ علم توحید کی معرفت بھی رکھتے تھے بلکہ بارہا پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے علم توحید کے متعلق گفتگو بھی فرماتے رہتے تھے۔چنانچہ،
علمِ توحید کے متعلق مکالمہ
حضرت سیدناعمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:’’میں کئی بار بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا اورمیٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماورحضرت سیدناابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ دونوں کوعلم توحیدکے متعلق گفتگو کرتے ہوئے دیکھا۔کافی دیرتک دونوں کے درمیان ایک عجمی شخص کی طرح بیٹھا رہا لیکن ان کی گفتگو کو نہ سمجھ سکا۔‘‘ (الریاض النضرۃ، ج۱، ص۱۵۱)
صدیق اکبر اور فتوی نویسی
زمانہ نبوی کے مفتیان کرام
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا گیا کہ’’رسولاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانے میں کون فتوے دیاکرتاتھا؟‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشادفرمایا:’’میں صرف دوشخصیات کو جانتاہوں اور وہ