اجاگر کرتے ہوئے ایمان کی حفاظت کی فکرکرتے رہنے کا ذہن دیا اور ساتھ ہی ساتھ مدنی قافلے میں سفر کی ترغیب بھی دلائی جس پر ان نوجوانوں نے مدنی قافلے میں سفر کی نیت کا اظہار کیا، اس کے بعد وہ مسجد سے باہر چلے گئے۔ ابھی چند ساعتیں ہی گزری ہوں گی کہ وہ دوبارہ پلٹ آئے ان کے چہروں کے تاثرات کسی بڑے انقلاب کا پتا دے رہے تھے، وہ لوگ کہنے لگے: ہم غیر مسلم ہیں آپ ہمیں کلمہ طیبہ پڑھا کر مسلمان کر دیجیے! ہم دائرۂ اسلام میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ امیر قافلہ نے فوراً کلمہ طیبہ لَااِلٰہَ اِلاَّاللہ مُحَمَّدٌُ رَّسُوْلُ اللہ پڑھا کر ان سب کو مسلمان کردیا ۔پھر امیرقافلہ نے حلقہ بگوش اسلام ہونےپر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مبارک باد دی اور پوچھا کہ کس بات سے متأثر ہو کر آپ نے دینِ اسلام قبول کیا تو کہنے لگے بیان میں قبر کے حالات سنے کہ اچھے کام کرنے والوں کے ساتھ وہ کیا معاملہ کرتی ہے اور بُرے کام کرنے والوں کے ساتھ کیسا بھیانک سلوک کرتی ہے جبکہ ہمارے مذہب میں اس کا کوئی تصور نہیں نیز اسلامی تعلیمات کے مطابق آپ کا سنّت کا آئینہ دار لباس اور بے مثال کردار بالخصوص نگاہیں جھکا کر چلنا، محبت اور نرمی سے گفتگوکرنا، دوسروں کو حقیر نہ جاننا، اپنے دین سے محبت کرنا اور دین و ایمان کی حفاظت کے لئے کڑھنا دیکھ کر دل و دماغ نے گواہی دی کہ اہلِ اسلام ہی حق و سچ کے داعی اور راہِ نجات کے راہی ہیں، یوں ہم دینِ اسلام سے متأثر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ پھر اِن نَو مسلم اسلامی بھائیوں نے ہاتھوں ہاتھ مدنی قافلے میں سفر اختیار کر لیا اور دو دن بعد جب ذاتی ضروریات کا سامان لینے اپنے اپنے گھر گئے تو واپسی پر ان کے ہمراہ دو نوجوان اور بھی تھے۔ وہ دونوں بھی دینِ اسلام قبول کر کے دارین کی سرفرازیاں حاصل کرنے کے خواہش مند تھے چنانچہ مدنی قافلے کے عاشقانِ رسول نے موقع غنیمت جانتے ہوئے انھیں بھی ہاتھوں ہاتھ کلمہ طیبہ پڑھا کر کفرو شرک کے تپتے ریگستان سے نکال کر شجرِ اسلام کی ٹھنڈی چھاؤں کے نیچے لاکھڑا کیا اور یوں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ مدنی قافلے میں ہونے والے علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کی برکت سے کئی غیر مسلموں کو اسلام کی سرمدی نعمت نصیب ہوگئی۔
کافروں کو چلیں، مشرکوں کو چلیں