سنے گا۔ جیسا کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس نوجوان کی گفتگو سنی۔(۶) البتہ اگرسامنے والا فضول گفتگو کرنا شروع کردے اور وقت کے ضائع ہونے کا خدشہ ہوتو اِعراض کیا جائے۔(۷) نیکی کی دعوت دینے کے بعد اس کو قبول کروانے میں جلدی نہ کی جائے بلکہ ترغیب سے کام لیا جائے اور مخاطب کے اَعذا ر کو بھی سنا جائے جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مخاطب کے اعذار کو سن کر حکمت عملی کے ساتھ اُن کا حل ارشادفرمایا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ !شیخ طریقت امیر اہلسنت بانیٔ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے بھی نیکی کی دعوت کے عظیم جذبے کے تحت اپنے متعلقین کو ہفتہ میں ایک دن علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت والا مدنی انعام عطافرمایاہے اور سیکڑوں اسلامی بھائی اس سعادت سے فیض یاب ہورہے ہیں۔اسی ضمن میں ایک مدنی بہار پیش خدمت ہے۔ چنانچہ،
غیر مسلموں کا قبول اسلام
ضلع غازی پور (یوپی،ہند) کے شہر گرام چوکیاں کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ صفر المظفر ۱۴۲۶ھ بمطابق اپریل 2005ء میں ہند کے مشہور شہر بمبئی میں ہونے والے مدنی قافلہ کورس کے دوران ایک مدنی قافلہ۳ دن کے لیے کرلاکھانی کی ایک مسجدمیں ٹھہرا ہوا تھا۔ تیسرے دن مدنی قافلے کے عاشقانِ رسول عصر کی نماز کے بعد’’علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت‘‘ کے سلسلے میں ایک حجّام کی دوکان پر پہنچے جہاں چند ماڈرن نوجوان خوش گپیوں میں مصروف تھے، رہنما اسلامی بھائی نے آگے بڑھ کر جوں ہی مدنی قافلے کا تعارف کروایا تو دَاعِی یعنی نیکی کی دعوت دینے والےاسلامی بھائی نے فوراً درد بھرے انداز میں نیکی کی دعوت دینا شروع کر دی۔ نیکی کی دعوت کے بعد انہیں مسجد چلنے کی دعوت دی انہوں نے انکار کیا مگر عاشقانِ رسول کے محبت بھرے اصرار پر بالآخر وہ نماز کے بعد ہونے والے بیان میں شرکت کرنے پر راضی ہو گئے۔ نماز کے بعد جونہی بیان کا آغاز ہوا وہ سبھی آ موجود ہوئے۔ ایک اسلامی بھائی نے امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا رسالہ ’’قبر کا امتحان ‘‘ پڑھ کر سنایا، بیان کے اختتام پر دولتِ ایمان کی اہمیت