Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
139 - 691
 پیش کرنا پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماورصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی سنت مبارکہ ہے۔ (۲)جب بھی کسی کے پاس جائیں تو سب سے پہلے سلام کریں،ہوسکے تو جب بس میں سوار ہوں،کسی اسپتال میں جانا پڑجائے ،کسی ہوٹل میں داخل ہوں،جہاں لوگ فارغ بیٹھے ہوں، جہاں جہاں مسلمان اکٹھے ہوں سلام کردیا کریںکہ سلام میں پہل کرنے والا  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا مقرب ہے۔ چنانچہ حضرت سیدناابوامامہ صدی بن عجلان الباہلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضور تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’لوگو ں میں اللہتعالٰی کے زیادہ قریب وہی شخص ہے جو انہیں پہلے سلام کرے ۔‘‘   
 (سنن ابو داود، کتاب الادب ،باب فی فصل من۔۔۔الخ، الحدیث: ۵۱۹۷، ج۴، ص۴۴۹)
 	آج کل اگر کوئی کسی کے پاس آکر سلام کر بھی دیتا ہے تو جاتے ہوئے ’’میں چلتا ہوں،خدا حافظ،اچھا،بائےبائے‘‘ وغیرہ کلمات کہتا ہے لہٰذا مجلس کے اختتام پر ان سب الفاظ کے بجائے سلام کیا کریں۔چنانچہ حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہحضور نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں:’’جس وقت تم میں سے کوئی کسی مجلس کی طرف پہنچے ،سلام کہے ۔ اگر ضرورت محسوس کرے ، وہاں بیٹھ جائے ۔ پھر جب کھڑا ہوسلام کہے اس لئے کہ پہلا سلام دوسرے سے زیادہ بہتر نہیں ہے۔‘‘     
  (سنن  الترمذی،کتاب الاستئذان،باب ما جاء فی۔۔۔الخ، الحدیث:۲۷۱۵،ج۴،ص۳۲۴)
(۳)جب بھی کسی کو نیکی کی دعوت پیش کی جائے تو اوّلا رہنما اسلامی بھائی تعارف وغیرہ کی ترکیب بنائے اور بعد میں داعی دعوت دے کہ اس طرح گفتگو کرنے میں آسانی ہوتی ہے اور جسے نیکی کی دعوت پیش کی جارہی ہے وہ بھی توجہ کے ساتھ دعوت کو سنتااور قبول کرتاہے ۔ (۴)تعارف کروانے اور نیکی کی دعوت دینے والے دوافراد ہوںیعنی ایک اسلامی بھائی رہنما ہوجس کا کام صرف یہ ہو کہ وہ اپنا تعارف پیش کرے اور سامنے والوںسے تعارف لے اورپھر دوسرا اسلامی بھائی نیکی کی دعوت پیش کرے۔جیسا کہ مذکورہ بالا روایت میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے تعارف وغیرہ کی ترکیب بنائی اور خود رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نیکی کی دعوت پیش کی۔ (۵) جسے نیکی کی دعوت دینی ہے اگروہ کوئی بات کہے تو اسے بھی سنا جائے کہ آپ اس کی بات سنیں گے تو وہ آپ کی دعوت کو