میں داخل ہوجائے۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا:’’اچھا یہ بتاؤکہ اگر کچھ عرصہ بعد(غلبہ اسلام کے سبب) ان کی زمیں، گھر بار، مال ومتاع، ان کی عورتیں وغیرہ سب کچھ تمہارے قبضے میں آجائے توکیا تم اسلام قبول کرکے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تسبیح وتقدیس کرو گے؟‘‘نعمان بن شریک نے کہا:’’خدا کی قسم!پھر ہم مسلمان ہو کرآپ کی غلامی میں آجائیں گے۔‘‘ اس پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی: (یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۴۵) وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا(۴۶)) (پ۲۲،الاحزاب:۴۵،۴۶)ترجمۂ کنز الایمان: ’’اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتااور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا او ر چمکادینے والا آفتاب۔‘‘
یہ کہہ کر نبیٔ کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سیدنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا ہاتھ تھامے اٹھ کھڑے ہوئےاور ارشاد فرمایا: ’’جاہلیت میں بھی بعض لوگوں کا اخلاق کتنااچھا ہےاور اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان ہی کفار میں سے بعض کے ہاتھوں بعض کے شر کو دفع فرمائے گااور بعض کو بعض سے دور رکھے گا۔‘‘ حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں: ’’پھر ہم قبیلہ ٔ اوس و خزرجکی مجلس میں پہنچے اور انہیں بھی اسلام کی دعوت پیش کی اور اس وقت تک واپس نہ لوٹے جب تک انہوں نے نبیٔ اور کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بیعت نہ کرلی۔ اوراس سفر میں میں نے دیکھا کہ پیارے آقا مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے مختلف مجالس سے ہونے والے مکالمات اور علم الانساب میں مہارت والی بھرپور گفتگو سے بہت زیادہ خوش ہوئے۔‘‘
(کنز العمال ،کتاب الفضائل ،باب فضائل الصحابۃ،فضل ابی بکر الصدیق، الحدیث: ۳۵۹۷۹، ج۶، ص۲۳۲ تا ۲۳۴)
نیکی کی دعوت کے مدنی پھول
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ بالا روایت سے نیکی کی دعوت کےکئی مدنی پھول حاصل ہوئے: (۱)چند اسلامی بھائیوں کا اکٹھے ہو کر نیکی کی دعوت کے لیے اپنے علاقے میں مختلف لوگوں کے پاس جانا، اور انہیں نیکی کی دعوت