Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
137 - 691
جھٹلانے اور مخالفت کرنے والی قوم نے آپ پر صریح بہتان باندھا ہے۔‘‘ ساتھ ہی مفروق نے ہانی بن قبیصہ کی تائید حاصل کرنے کے لیے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:’’یہ ہانی بن قبیصہ ہمارے شیخ اور ہمارے دین کے عالم ہیں(یعنی یہ بھی میری تائید کریں گے۔)‘‘ ہانی بن قبیصہ کہنے لگا:’’ اے قرشی بھائی!ہم لوگوں نے آپ کی ساری گفتگو سنی ہے، ہمیں کرنا تو یہی  چاہیے کہ سابقہ دین کو چھوڑ کر آپ کی اتباع کریں اورآپ کے ساتھ ایسی مجلس میں بیٹھ کرگفتگو کریں جس کی ابتداواتنہا نہ ہو(یعنی بس آپ کی پیاری پیاری گفتگو ہی سنتے رہیں )،تاہم ایسا کرنے میں انجام پر غور کیے بغیرکسی کی رائے ماننے میں جلد ی کرنا ہوگااور یقینا جلد بازی میں کیے جانے والے فیصلے عموما غلط ہوتے ہیں۔(ہم یہ فیصلہ فی الحال اس لیے نہیں کرسکتے کہ)  ہمارے پیچھے ایک قوم ہے جس کی مرضی کے خلاف ہم کوئی عہد نہیں کرسکتے لہٰذا ایسا کرتے ہیں کہ ابھی ہم بھی چلتے ہیں اورآپ بھی تشریف لے جائیں، آپ بھی سوچیں اور ہم بھی مزید اس پرغورو فکر کرتے ہیں۔‘‘پھر اس نے مثنی بن حارثہ کی تائید حاصل کرنے کے لیے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:’’ یہ مثنی بن حارثہ ہیں ہمارے بزرگ اور جنگی سپہ سالار ہیں(یعنی یہ بھی میری تائید کریں گے۔) ‘‘مثنی کہنے لگا۔ اے قرشی بھائی! ’’تمہاری دعوت سن کر ہمارا بھی وہی جواب ہے جو ہانی بن قبیصہ نے دیاکیونکہ ہم دوسوکنوں یمامہ اور سمامہ کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔‘‘سرکار صَلَّی اللہُ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشادفرمایا:’’یہ دو سوکنیں کونسی ہیں؟‘‘کہنے لگا: ’’ایک طرف کسریٰ کی نہریں ہیں اور دوسری طرف عرب کا پانی۔ کسریٰ کی مخالفت معاف نہیں ہوسکتی اور نہ ہی وہاںکوئی عذر قبول ہوگا کیونکہ ہمارا ان سے مخالفت نہ کرنے پرمعاہدہ ہے ، جبکہ عرب کی مخالفت معاف ہوسکتی ہے اور یہاں عذر بھی قبول ہو سکتا ہے۔ آپ نے جن باتوں کی ہمیں دعوت دی ہے یہ تو وہ باتیں ہیں جنہیں عرب اور کسری دونوں کے بادشاہ پسند نہیں کرتے ، اب اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی دعوت قبول کریں اور آپ کی عرب کے خلاف معاونت کریں توایسا ہم کرسکتے ہیں کیونکہ ہمارا ان سے کوئی معاہدہ نہیں ہے۔‘‘ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ سن کر ارشاد فرمایا:’’تم نے بڑا اچھا جواب دیا ہے کیونکہ صاف اور سچی بات کہی ہے، مگر اللہ  کے دین کا صرف وہی مددگار ہو سکتا ہے جو مکمل طور پر اس دین