اس نوجوان نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکوتنگ کرنے کے لیے ایک اورشعر پڑھا:
صَادَفَ دَرْءُ السَّيْلِ دَرْءًا يَدْفَعُهُ ۔۔۔ بَهِيْضَهٌ حِيْنًا وَحِيْنًا يَصْدَعُهُ
’’یعنی شر اپنے سے بڑے شر سے ٹکرا کر اس طرح مغلوب ہوگیا کہ جب اس پر بوجھ پڑا تو بوجھ پڑنے سے اسی وقت پھٹ گیا۔‘‘اورساتھ ہی کہنے لگا:’’ اگر تم کچھ دیر مزیدٹھہرتے تو میں ضرور تمہیں قریش کے بارے میں بتاتا۔‘‘
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ سارا ماجرا دیکھ کر مسکرا دیئے۔ حضرتِ سیدناعلی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتےہیں کہ: ’’میں نے حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے عرض کی:’’اس دیہاتی نوجوان سے آپ کوبڑی قبیح گفتگو کرنا پڑی۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے جواب دیا:’’اے ابوالحسن!ہر مصیبت کے اوپر ایک مصیبت ہےاور مصیبت بولنے کے ساتھ موکل ہے ‘‘(یعنی جہاں بولے وہیں مصیبت آگئی) حضرت سیدناعلی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں:’’ پھر ہم ایک اور مجلس میں گئے جو پڑھے لکھے اور باوقار لوگوں کی مجلس تھی،حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہآگے بڑھے اور انہیں سلام کیا اور پوچھا کہ:’’آپ لوگوں کا کس قوم سے تعلق ہے؟‘‘وہ بولے:’’شیبان بن ثعلبہ کی اولاد سے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف دیکھ کرعرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں باپ آپ پر قربان! یہ لوگوں کے سردار ہیں۔‘‘ وہاں مجلس میں مفروق بن عمرو، ھانی بن قبیصہ ، مثنی بن حارثہ اور نعمان بن شریک بھی موجودتھے ان سرداروں میں مفروق حسن و جمال میں اور گفتگو کرنے میں بہت تیز تھااس کے بالوں کی دو چٹیا پشت پرلٹک رہی تھیں۔چونکہ وہ سامنے ہی بیٹھا تھا اس لیے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسی سے گفتگو شروع کردی اور پوچھا: ’’تمہاری تعداد کتنی ہے؟‘‘ وہ بولا:’’ ہم ہزار سے زائد ہیں اور اتنی تعداد کبھی کم لوگوں سے مغلوب نہیں ہوتی( بلکہ اسے مغلوب کرنے کے لیے اتنی ہی تعداد کی ضرورت ہے۔)‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پوچھا :’’تم لوگ اپنا دفاع کیسے کرتے ہو؟ ‘‘بولا:’’ ہم اس کی تیاری اور کوشش کرتے رہتے ہیں اور یقیناً ہر