٭…نوجوان:’’ قسم بخدا!آپ گڑھا بھرنے پر قادر ہیں یعنی آپ کانسب بہت اچھاہے۔ کیا قصی تم ہی میں سے ہے جس نے فھری قبائل اکٹھے کیے اوروہ قریش میں سردار ہونے کا دعویدار بھی ہے۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’نہیں۔‘‘
٭…نوجوان :’’ ھاشم تم ہی میں سے ہےجس نے اپنی قوم کے لیے ثرید تیار کی جبکہ اس کے لوگ دبلے پتلے ہوچکے تھے۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’نہیں۔‘‘
٭…نوجوان: ’’آسمانی پرندوں کو دانہ ڈالنے والا،اندھیر ی راتوںمیں چمکتے چہرے والا عبد المطلب بھی تم ہی میں سے ہے؟‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’نہیں۔‘‘
٭…نوجوان: ’’ کیالوگوں کو مصیبتوں میں دھکیلنے والے تم ہی ہو؟‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’نہیں۔‘‘
٭…نوجوان: ’’کیاچوکیداری کرنے والے بھی تم ہی لوگ ہو؟‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’نہیں۔‘‘
٭…نوجوان:’’کیا آب رسانی یعنی گھروں میں پانی پہنچانے کا کام بھی تم ہی لوگ کرتے ہو؟‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’نہیں۔‘‘
٭…نوجوان :’’کیا بحث مباحثہ اور مشورے کرنے والے تم ہی لوگ ہو؟‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’نہیں۔‘‘
٭…نوجوان : ’’کیا آپ ہی لوگ اَھْلِ رِفَادَہ یعنی غریب حجاج کی ضیافت کرنے والے ہو؟‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:’’نہیں۔‘‘
یہ کہہ کرحضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیزاری سے اپنی اونٹنی کی لگام کھینچ کر چل دیے توبنی شیبان کے