Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
135 - 691
قوم تیاری کرتی ہے۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے پوچھا :’’دشمنوں سے تمہاری لڑائی کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟‘‘وہ کہنے لگا: ’’جب دشمن سے ہمارا مقابلہ ہوتا ہے تو میدان جنگ میں ہم سے بڑھ کر کوئی غضب ناک نہیں ہوتا۔ہم اپنے جنگی گھوڑوں کو اپنی اولادپر اور اسلحہ جمع کرنے کو عیش و عشرت پر ترجیح دیتے ہیں۔اور مددتو اللہ  کی طرف سے ہوتی ہے جو کبھی ہمیں فتح دلاتی ہے اور کبھی ہمارے دشمنوں کو۔‘‘ پھر اس نےہماری طرف دیکھتے ہوئے کہا:’’آپ لوگ شاید قریش سے ہیں۔‘‘حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’تمہارے پاس  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول کی خبر تو پہنچی ہوگی ۔‘‘ پھرآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’یہ وہی   اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے رسول ہیں۔‘‘مفروق کہنے لگا:’’ہاں ہمیں اس بارے میں کچھ اطلاعات تو مل رہی ہیں۔بہرحال اے قرشی بھائی ! یہ بتاؤ آپ لوگ کس بات کی دعوت دے رہے ہو؟‘‘جیسے ہی اس نے یہ پوچھا تو پیارے آقا مکی ،مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  انہیں اسلام کی دعوت پیش کرنے کے لیے آگے تشریف لے آئےاور ان کے قریب ہی بیٹھ گئے۔ حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکھڑے ہوکر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر اپنے کپڑوں سے سایہ کرنے لگے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’میں تمہیں اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ تم گواہی دو کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے بندے اوراس کے رسول ہیں اور میں تمہیں اس بات کی بھی دعوت دیتاہوں کہ تم لوگ میری مدد کروکیونکہ قریش نے   اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے حکم کی مخالفت کرتے ہوئے اس کے رسول کو جھٹلایا اور حق کی بجائے باطل اختیار کیا حالانکہاللہ  عَزَّ وَجَلَّ غنی یعنی بے پرواہ ہےاور وہی تعریف کے لائق ہے۔‘‘مفروق بولا:’’اس کے علاوہ اور آپ کس بات کی دعوت دیتے ہیں؟ویسے آپ کاکلام بہت ہی عمدہ ہے۔‘‘ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےآیات مبارکہ تلاوت فرمائیں: (قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاۚ-وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍؕ-نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْۚ-وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَۚ-وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا