ذھل اصغر سے ہو۔‘‘ (کہ ذھل اکبر کی تومیں نے کئی نشانیاں تم سے پوچھیں اور تم نے سب کے جواب نفی میں دیے، اگرتم ذھل اکبر میں سے ہوتے توان میں موجود کوئی ایک بات تو تمہیں معلوم ہوتی، لہٰذا تمہارا جھوٹ ظاہر ہوگیا۔)
یہ سن کر بنو شیبان قبیلے کادغفل نامی ایک نوجوان جس کی داڑھی نئی نئی نکل رہی تھی اس نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی طرف متوجہ ہو کر یہ شعر پڑھا:
اِنَّ عَلَی مَسَائِلِنَا اَنْ نَسْئَلَہُ ۔۔۔۔ وَالْعَبْ ءُلَاتَعْرِفْہُ اَوْتَحْمِلْہُ
’’یعنی آپ نے جو پوچھنا تھا پوچھ لیا اب ہمیں بھی اپنے سوال پوچھنے کا پورا حق ہےکیونکہ کہا جاتاہے گٹھری کو یا تو پہچانوہی نہیں اگرپہچان لیا ہے تو پھراسے اٹھالواور اس کے مالک تک پہنچاؤ۔‘‘
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہچونکہ ماہر انساب تھے اور خصوصا قبائل قریش کے انساب کی معرفت میں توآپ کا کوئی ثانی نہ تھا، آپ نے ان سے مختلف قسم کے سوالات کرکے ان کے جھوٹ کر ظاہر فرمادیا تھااپنی اسی رسوائی کی وجہ سے اس نوجوان نے بدلہ لینے کےلیے یہ شعر پڑھا اور اس کا مقصد یہ تھا کہ تم نے توہم سے بہت سے سوالات کیے اور ہم نے ان کے جوابات بھی دیے اب تمہارا یہ حق بنتاہے کہ ہمارے بھی سوالوں کے جواب دو یا یہ کہ تم ہم سے کوئی سوال ہی نہ کرتے، پھر اس نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو پریشان کرنے کے لیے مختلف اقسام کے الٹے سیدھے سوالا ت کرنا شروع کیے اور کہنے لگا:
٭…’’ا ے محترم ! تم اپنا تعارف توکراؤ کہ تم کون ہو؟‘‘حضرت سیدنا ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’میں قریش سے ہوں اور مجھے ابوبکر کہتے ہیں۔‘‘
٭…نوجوان:’’ واہ کیا بات ہے ! تم تو شرافت و امارت والے ٹھہرے، مگر قریش کے کس قبیلہ سے ہو؟‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’تیم بن مرہ کی اولاد سے ۔‘‘