میں پہنچےتو حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہآگے بڑھے کیونکہ وہ ہمیشہ نیکی میں آگے آگے ہی رہتے تھے، اور علم انساب میں بھی ماہر تھے، آپ نے اہل مجلس کو سلام کیااور ان سے پوچھا کہ:
٭…’’تمہارا تعلق کس قوم سے ہے؟‘‘ وہ بولے: ’’بنو ربیعہ سے۔‘‘
٭…آپ نے فرمایا:’’ بنو ربیعہ کے کسی بڑے قبیلے سے ہویا چھوٹے قبیلے سے؟‘‘وہ کہنے لگے: ’’بڑے قبیلے سے۔‘‘
٭…آپ نے فرمایا:’’کون سے بڑے قبیلے سے؟‘‘کہنے لگے: ’’ہم ذھل اکبرسے ہیں۔‘‘
٭…آپ نے پوچھا: ’’عوف تم ہی میں سے ہے جس کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ عوف کے صحرائوں میں گرمی نہیں۔‘‘کہنے لگے: ’’ایسا عوفہم میں سے نہیں۔‘‘
٭… آپ نے پوچھا: ’’جساس بن مرہ تم میں سے ہے جولڑنے بھڑنے میں بڑا تیز اور خصوصاًپڑوسیوں کا بڑا دشمن ہے؟‘‘ وہ بولے:’’ نہیں۔‘‘
٭…آپ نے پوچھا: ’’بسطام بن قیس جھنڈے والا اور زندوں کو ختم کرنے والا تم میں سے ہے؟ ‘‘کہنے لگے: ’’نہیں۔‘‘
٭…آپ نے پوچھا: ’’بادشاہوں کی جانیں لینے اور انہیں قتل کرنے والا حوفزان تم میں سے ہے؟‘‘ بولے:’’ نہیں۔‘‘
٭…آپ نے پوچھا: ’’منفرد عمامہ باندھنے والا مزدلف تم میں سےہے؟‘‘انہوں نے کہا: ’’نہیں۔‘‘
٭…آپ نےپوچھا:’’بنی کندہ کے بادشاہوں کے ننہال تم میں سے ہیں؟‘‘کہنے لگے:’’ نہیں۔‘‘
٭…آپ نے پوچھا:’’ تم شاہانِ بنی لخم کے سسرال ہو؟‘‘ بولے: ’’نہیں۔‘‘
٭… حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے کہا:’’ پھر تم ذھل اکبر کی اولاد ہرگز نہیں ہوسکتے بلکہ تم لوگ