ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پھر لوٹ آئے اور بارگاہ رسالت میں حاضر ہوکرعرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ کا نسب الگ کردیاگیا ہے، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میں آپ کو ان سے اس طرح نکال لوں گا جس طرح آٹے میں سے بال کھینچ لیا جاتاہے۔‘‘پھرآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے قریش کی ہجو کی تو قریش نے سن کر کہا: ’’حسان کے ان اشعار کو سن کر لگتاہے ان کی ابوبکر نے معاونت کی ہے۔‘‘جب سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وہ اشعار سنے تو ارشاد فرمایا:’’حسان نے کفار قریش کی ہجو کرکے مسلمانوں کوشفا دی یعنی ان کا دل ٹھنڈا کردیا اور کفار کے دلوں کو بیمار کردیایعنی انہیں بہت سخت تکلیف دی۔‘‘
(صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب فضائل حسان بن ثابت، الحدیث: ۲۴۹۰، ص ۱۳۵۲، اسد الغابہ، باب الحاء والسین، حسان بن ثابت، ج۲، ص۸،الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، حسان بن ثابت الانصاری،ج۱،ص۴۰۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نہ صرف انسابِ قریش کے ماہر تھے بلکہ قبائل قریش کے مختلف افراد کی انفرادی صفات پر بھی اچھی طرح مطلع تھے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے علم انساب میں مہارت پردال ایک منفرد واقعہ پیش خدمت ہے۔چنانچہ،
علم انساب میں مہارت کا حیرت انگیزواقعہ
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہماسے روایت ہے کہ حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم بیان فرماتے ہیں کہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو قبائل عرب کے پاس پہنچ کر انہیں اپنا تعارف کروانے اوراسلام کی دعوت پیش کرنے کا حکم دیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے اور حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو اپنےساتھ لے لیااور مختلف مجالس عرب کا دورہ کیا۔(غالبایہ وہ مجالس تھیں جہاں عربی لوگ ایام حج میں اپنے اپنے خیموں کے اندر بیٹھ کر سیاسی اُمور پر تبادلہ خیال کیا کرتے تھے)حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم بیان فرماتے ہیں کہ ہم ایک عام لوگوں کی مجلس