مطعم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پورے عرب خصوصاً قبیلۂ قریش کے نسب بیان کرنے میں مہارت رکھتے تھے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے :’’میں نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے علم الانساب حاصل کیا ہے اس علم میں میرے وہی استاد ہیں کیونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پورے عرب کے ماہر انساب تھے۔‘‘ (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، باب جبیر، ج۱، ص۳۰۴)
انساب قریش میں آپ سے مشاورت
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ رسولاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’کفار قریش کی ہجوکرو،کیونکہ ان پر اپنی ہجوتیروں کی بوچھاڑسے زیادہ تکلیف دہ ہے ۔‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدناابن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف پیغام بھیجا کہ کفار قریش کی ہجو کرو۔انہوں نے کفار قریش کی ہجو کی لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو پسند نہ آئی۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدناکعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف پیغام بھیجااور پھر حضرت سیدناحسان بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف پیغام بھیجا،جب حضرت سیدناحسان بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ آئے تو آتے ہی عرض کیا:’’یارسولاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اب وقت آگیا ہے آپ نے شیر کی طرف پیغام بھیجا ہے جو اپنی دُم سے مارتاہے۔‘‘ پھر اپنی زبان نکال کر اس کو ہلانے لگے اورساتھ ہی عرض کرنے لگے: ’’اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! میں ان کو اپنی زبان سے اس طرح چیر پھاڑ کر رکھ دوں گاجس طرح چمڑے کو پھاڑتے ہیں۔‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’اے حسان! جلدی نہ کروکیونکہ تم قریش کی کیسے ہجو کرو گے جبکہ میں بھی قریش سے ہوں، میرے چچا کا بیٹا ابوسفیان بھی قریش سے ہے،لہٰذاتم ابوبکر صدیق سے مشورہ کرلو کیونکہ وہ قریش کے ماہر انساب ہیں۔‘‘حضرت سیدناحسان بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس گئےاور ان سے اس معاملہ میں مشاورت کی، انہوں نے فرمایا:’’ہجو سے فلاں فلاں کو نکال دواور فلاں فلاں کو شامل کرلو۔ ‘‘ حضرت سیدنا حسان بن