اور طوق کی طرح گردن میں لٹک گئے ہیں۔‘‘ حضرتِ سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’اگر تونے واقعی یہ خواب دیکھا ہے تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ تواسلام کو چھوڑ کرکُفر اختِیار کریگا (یعنی مُرتد ہو جائے گا) البتہ میرے مُعاملات درست رہیں گےتعالٰیاور میرے دونوں ہاتھ دنیا کی آلائشوں سے پاک رہیں گے۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عُمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے دور خِلافت میں ربیعہ مدینہ منورہ زَادَہَااللہُ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْمًاسے روم پہنچا ، اور قیصر روم کے یہاں جا کرنصرانی یعنی کرسچین ہو گیا۔
(تعبیرُ الرؤ یا ،ص۵۴ )
علم انساب اور صدیق اکبر
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اسلام کے ابتدائی دور میں کوئی شعبہ ریکارڈ نہیں تھا حالانکہ جائیدادمنقولہ وغیر منقولہ اور خاندانی وراثت کی تقسیم کے لیے ایسے ریکارڈ کا ہونا ناگزیر ہے، اسی طرح نکاح کی حلت وحرمت ،ثبوت رضاعت وغیرہ امورکے لیے انساب کا جاننا نہایت ہی ضروری ہے اوراس وقت کاغذ بھی ایجاد نہیں ہواتھاکہ اس میں ایسے تمام ریکارڈ محفوظ کرلیے جاتے ۔ان حالات میں پیش آمدہ مسائل کے حل کے لیے ایک ایسے شخص کی سخت ضرورت تھی جوکاغذی ریکارڈ کے متبادل اپنے ذاتی حافظے کی مدد سے جملہ قبائل عرب کے انساب کواچھی طرح جانے اور پوری معلومات کو ایک پورے شعبے کی طرح صحیح اور بروقت استعمال بھی کرے،اس تمام قبائل عرب میں صرف ایک شخصیت کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ وہ ان تمام خصوصیات کی جامع تھی اور وہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہتھے،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ انساب عرب یعنی عربوں کے نسب کے بہت بڑے عالم تھے بالخصوص قبائل قریش کے ماہر انساب تھے۔چنانچہ،
علم انساب کے استاد
حضرت ابن اسحاق حضرت یعقوب بن عتبہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا جبیر بن