اورگھی ٹپک رہاہے، اور لوگ اپنے ہاتھوں کے چلو بنا کر اس شہد اور گھی کولینے کی تگ ودوکررہے ہیں، کوئی زیادہ لے رہاہے اورکوئی بہت کم۔ پھر میں نے آسمان سے ایک رسی لٹکی دیکھی،جسے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپکڑکر اوپر چڑھ گئے، آپ کے بعد ایک شخص آیا اوررسی پکڑکراوپر چڑھ گیا، پھر ایک اور شخص آیا اوروہ بھی رسی پکڑکراوپر چڑھ گیا،اس کے بعد تیسرا شخص آیااور اس نے اوپرچڑھنا چاہا تو رسی ٹوٹ گئی ،پھر وہ رسی جڑگئی اوروہ بھی اوپر چڑھ گیا۔‘‘حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خواب سننے کے بعدعرض کیا:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر آپ کی اجازت ہوتواس خواب کی تعبیر میں بیان کروں؟‘‘سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’ہاں ابوبکر بیان کرو۔‘‘عرض کرنے لگے: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! بادل سے مراداسلام ہے،گھی اور شہد سے مراد قرآن ،اس کی مٹھاس اورنرمی ہے۔اور جو لوگ اسے لے رہے ہیں وہ قرآن کی تلاوت کرنے والے ہیں کہ کوئی قرآن پاک کی تلاوت زیادہ کرے گا اور کوئی بہت کم۔ آسمان سے لٹکی ہوئی رسی سے مراد وہ راہ حق ہے جس پر آپ قائم ہیں، اورآپ کے رب عَزَّ وَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو رفعت وبلندی عطافرمائی۔آپ کے بعدایک شخص آئے گاجواسی راستے پر چلتارہے گا اور وہ بھی کامیاب ہوجائے گا،اس کے بعدبھی ایک شخص بغیرکسی پریشانی کے کامیابی حاصل کرلے گا،البتہ اس کے بعدجوتیسرا شخص آئے گااسے اس راہ میں تکالیف اور پریشانیاں لاحق ہوں گی لیکن بالآخر وہ بھی کامیابی کازینہ طے کرلے گا۔‘‘ (صحیح مسلم ،کتاب الرویا،باب فی تاویل الرویا،الحدیث:۲۲۶۹،ص۱۲۴۶،صحیح البخاری، من لم یرالرؤیالاول عابر۔۔الخ،الحدیث:۷۰۴۶،ج۴، ص۴۲۴)
آئندہ کا فِر ہوجانے کی پیشین گوئی
علمائے حق کے رہبر ، علم و عمل کے عظیم پیکر ، باذنِ رب داور غیب کی باتوں سے باخبر حضرتِ سیدنا صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت سراپا علم و حکمت میں حاضر ہو کر ربیعہ بن اُمیہ بن خلف نے عرض کی :’’ میں نے کل رات خواب دیکھا ہے کہ میں سر سبز جگہ پر تھا پھر بنجر زمین میں پہنچ گیا جہاں کوئی پیداوار نہیں ہے اور یہ بھی دیکھا ہے کہ دونوں ہاتھ مل گئے