صدیق اکبر اور خوابوں کی تعبیر
آنگن میں تین چاند
حضرت سیدنا سعید بن مسیبرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے خواب دیکھا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے آنگن میں تین چاندآگرے ہیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اپنے والد ماجد حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے اپنا یہ خواب بیان کیا۔آپ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر تمہارا خواب سچا ہےتو اس کی تعبیر یہ ہےکہ تمہارےگھر میں روئے زمین کی تین بہترین شخصیات کی تدفین ہوگی۔‘‘جب حضور اکرم ،نور مجسم شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات ہوئی توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’ اے عائشہ ! یہ تیرے خواب والے تین چاندوں میں سب سے بہتر چاند ہیں۔‘‘
(الریاض النضرۃ، ج۱، ص۱۶۱، جمع الجوامع، مسند ابی بکر الصدیق، الحدیث: ۹۴۵، ج۱۱، ص۱۹۰)
سیاہ وسفید بکریاں
حضرت سیدنا عمر و بن شرحبیل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک دن اپناخواب بیان کرتے ہوئےارشادفرمایا :’’میں نے دیکھا کہ میں ایک کنویں سے پانی نکال رہاہوں، توکچھ سیاہ بکریاںمیرےپیچھے پیچھے آگئیں، پھر چندسفید بکریاں ان کالی بکریوں کے پیچھے آگئیں اور سفید بکریاں بڑھتے بڑھتے اتنی تعدادمیں ہوگئیں کہ سیاہ بکریاں ان میں دکھائی نہ دیتی تھیں۔‘‘ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی :’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اس خواب کی میں تعبیربیان کرتاہوں،سیاہ بکریاں عرب کےلوگ ہیں جو آپ پرایمان لائیں گے، جبکہ سفید بکریوں سے مراد آپ پرایمان لانے والے عجمی لوگ ہیں جن کی اتنی کثیر تعداد آپ پرایمان لائے گی کہ ان کی کثرت کی وجہ سے عرب دکھائی نہیں دیں گے۔‘‘حضرت سیدنا ابوبکر