Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
124 - 691
ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ دیگر علوم کے ساتھ ساتھ علم تعبیر میں بھی ماہر تھےاورآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو اُمت محمدیہ کے سب سے بڑے مُعَبِّر یعنی خوابوں کی تعبیر بیان کرنے والے کا اعزاز حاصل تھا۔ چنانچہ،
علم تعبیر میں مہارت
حضرت سیدنا محمد بن سیرین رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی المُبِین فرماتے ہیں:’’نبیٔ کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد اُمت میں سب سے بڑے مُعَبِّر یعنی خوابوں کی تعبیر بیان کرنے والے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں۔‘‘							   (کنزالعمال، کتاب المعیشۃ،باب التعبیر، الحدیث: ۴۲۰۰۴، ج۸، الجزء: ۱۵، ص ۲۱۹)
علم تعبیر میں مہارت کا راز
علم تعبیر میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مہارت کا راز یہ ہے کہ آپ نے یہ علم خود رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سیکھا ہے۔چنانچہ، حضرت سیدنا سمرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’مجھے خوابوں کی تعبیر بتانے کا حکم دیا گیا ہے نیز یہ بھی حکم دیاگیا ہے کہ یہ علم میں ابوبکر کو سکھاؤں۔‘‘											         (تاریخ الخلفاء، ص۳۳)
تعبیر بتانے کے لیے آپ کی تقرری
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے نہ صرف علم تعبیر اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سیکھابلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو خود انہیں اس کام کے لیے مقرر فرمانے کا حکم دیاگیا۔چنانچہ،حضرت سیدنا سمرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’مجھے اس بات کاحکم دیا گیا ہے کہ خوابوں کی تعبیربتانے کے لیےابوبکر صدیق کو مقرر کروں۔‘‘ (الروض الانیق فی فضل الصدیق، الحدیث التاسع والعشرون،ص۸۷)