آپ کی صحبت میں ہی رہے۔
احادیث کے معاملے میں سب سے پہلے احتیاط کرنے والے
حضرت علامہ شمس الدین ذھبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:’’حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہوہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی احادیث مبارکہ لینے میں سب سے پہلے احتیاط فرمائی۔‘‘
(تذکرۃ الحفاظ للذھبی، ج۱، ص۹)
بہت کم احادیث مروی ہونے کی وجہ
اگرچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حدیث کے بہت بڑے عالم تھے لیکن آپ سے بہت کم احادیث مروی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفات ظاہری کے بعدآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تھوڑا ہی عرصہ زندہ رہے اگرآپ کی مدت خلافت مزید طول پکڑتی تویقیناآپ سے بے شمار احادیث مروی ہوتیں، آپ سے حدیث نقل کرنے والوں نے ہر حدیث نقل کرلی لیکن آپ کی مدت خلافت میں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سے کوئی بھی اس بات کا محتاج نہ تھا کہ وہ آپ سے وہی روایت آگے نقل کرے جس میں وہ بذات خودآپ کے ساتھ شریک ہے اس لیے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے صرف وہی احادیث نقل کرتے تھے جوان کے پاس نہیں ہوتی تھیں۔ (تاریخ الخلفاء، ص۳۲)
علم تعبیراور صدیق اکبر
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!احادیث مبارکہ میں ہے کہ علم تعبیر یعنی خوابوں کی تعبیر کا علم حضرت سیدنا یوسف عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ایک علمی معجزہ تھا اور یہ ایک بدیہی بات ہے کہ جو چیز نبی اللہ کا معجزہ ہوتی ہے وہ یقیناً افضل واعلیٰ ہوا کرتی ہے۔علم تعبیر ایک ایسا علم ہے جس کو جاننے کے لیے کئی علوم کی معرفت ضروری ہے حضرت سیدنا