Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
122 - 691
 امامت کا سب سے زیادہ حق دار وہ ہے جو کتاب اللہ کا سب سے بڑا عالم ہے۔‘‘اور حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جس قوم میں ابوبکر ہوں اس قوم کے لیے جائز نہیں کہ وہ ان کے علاوہ کسی اور کوامام بنائے۔‘‘اور امامت کا وہی حق دار ہے جو قرآن کا سب سے بڑا عالم ہو ،لہٰذاثابت ہواکہ صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ قرآن کے سب سے بڑے عالم ہیں۔  (صحیح مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، باب من احق بالامامۃ، الحدیث:۶۸۹، ص۳۳۷، سنن الترمذی ، کتاب المناقب عن رسول اللہ،باب  فی مناقب ابی بکر و  عمر کلیھما، الحدیث: ۳۶۹۳، ج۵، ص۳۷۹، تاریخ الخلفاء، ص۳۱تا۳۲)
علم حدیث اور صدیق اکبر
زمانہ نبوی میں مسلمانوں کو جب بھی کوئی شرعی مسئلہ درپیش آتاتووہ فوراً بارگاہ رسالت میں حاضر ہوجاتے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کی رہنمائی فرماتے لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصالِ ظاہری کے بعد تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  مسائل شرعیہ میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی طرف رجوع فرماتے تھے کیونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی حدیث کے بہت بڑے عالم تھے ۔چنانچہ،
حدیث کے بہت بڑے عالم
جلیل القدر محدث ومفسر قرآن حضرت امام جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی  فرماتے ہیں:’’حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حدیث کے بہت بڑے عالم تھے، جب کبھی کسی موقع پر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو سب ہی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف رجوع کرتے تو آپ انہیں دو عالم کے مالِک و مختار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی احادیث طیبہ سناتے جو آپ کے قلب وباطن میں نقش ہوتی تھیں۔عموما ضرورت کے وقت وہ حدیث پاک پیش کرتے جس کے متعلق صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو علم نہیں ہوتاتھا اور کیوں نہ ہو کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تو بعثت نبوی سے لے کر نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی وفات ظاہری تک سفر وحضر ہرجگہ