Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
120 - 691
اللہ  اور اس کا رسول ہی کافی ہے
ایک بار اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ارشاد فرمایاکہ’’اپنا مال راہ خدا میں جہاد کے لیے صدقہ کرو۔‘‘اس فرمان عالیشان کی تعمیل میں مختلف صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے حسب توفیق اپنا مال راہِ خدا میں جہاد کے لیے تصدق کیا۔عاشقِ اکبر،یارغار مصطفےٰ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنا سارا مال لے کر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوگئے ۔ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَآپ کو دیکھ کربہت خوش ہوئے اور استفسار فرمایا:’’اے ابوبکر! گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کرآئے ہو؟‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے محبت بھرے لہجے میں یوں عرض کیا: ’’یَارَسُوْلَ اللہ ! اَبْقَیْتُ لَھُمُ اللہ  وَرَسُوْلَہ یعنی اے   اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں اپنے گھر کا سارا مال لے کر آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوگیا ہوں اور گھروالوں کے لیے اللہ  اور اس کا رسول ہی کافی ہے۔‘‘حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے اورکہنے لگے کہ ’’میں کبھی بھی ابوبکر صدیق سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔‘‘  (سنن الترمذی، کتاب المناقب عن رسول اللہ، باب فی مناقب ابی بکر وعمر، الحدیث:۳۶۹۵، ج۵، ص۳۸۰،   سنن دارمی، کتاب الزکوۃ، باب الرجل یتصدق ما عندہ، الحدیث: ۱۶۶۰، ج۱، ص۴۸۰، تاریخ الخلفاء، ص۳۰)
گھر بار لٹا کر کہتے ہیں اللہ  نبی ہی کافی ہے
کیا بات اجاگر کہتے ہیں صدیق اکبر میرے ہیں
کیا پیش کریں جاناں کیا چیز ہماری ہے
یہ دل بھی تمہارا ہے یہ جاں بھی تمہاری ہے
میرے تو آپ ہی سب کچھ ہیں رحمت عالم
میں جی رہا ہوں زمانے میں آپ ہی کے لیے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد