اسی طرح سیدتنا نہدیہ اور ان کی بیٹی دونوں بنی عبدالدار کی ایک عورت کی لونڈیاں تھیں ایک روز آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہوہاں سے گزرے تو دیکھاکہ ان کی مالکن نے ان دونوں کوچکی پرکام کرنے کے لیے بھیجا ہوا ہےاور وہ غصے میں کہہ رہی تھی:’’خدا کی قسم!میں اِن دونوں کو کبھی آزاد نہیں کروں گی۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’اے فلاں عورت ! قسم نہ اٹھا۔‘‘ اس نے کہا :’’ا ے ابوبکر! تو نے ہی انہیں خراب کیا ہے (یعنی مسلمان بنادیا ہے) تو ہی انہیں آزاد کر والے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’ان کی کتنی قیمت ہے؟ ‘‘جیسے ہی اس نے قیمت بتائی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کی ادائیگی کردی اورارشادفرمایا:’’ یہ دونوں آزاد ہیں۔‘‘ پھر ان دونوں سے فرمایا:’’ اس کی چکی اسے واپس کردو۔‘‘وہ دونوں کہنے لگیں: ’’کام سے فارغ ہو کر یا ابھی ؟‘‘ فرمایا: ’’جیسے تمہاری مرضی ۔‘‘ اس کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہایک اور لونڈی کے پاس سے گزرے،جو بَنِی عَدِی کے ایک خاندان بَنِی موْمل کےہاںحضرت سیدناعمربن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس تھی وہ اسے بہت سخت تکلیفیں دیا کرتے تھے تاکہ وہ اسلام چھوڑ دےکیونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اس وقت اسلام نہیں لائے تھے، جب اسے مار مار کر تھک جاتے تو کہتے:’’میں نے تجھ پر رحم کرکے نہیں چھوڑا،میں تھک گیا ہوں ابھی پھر سزادوں گا۔‘‘و ہ بھی انہیں برابھلا کہتی۔حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اِس لونڈی کوبھی خرید کر آزاد کردیا۔ (الریا ض النضرۃ،ج۱، ص۱۳۴)
شان صدیق اکبر
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا روایات سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنہایت ہی شفیق ومہربان تھے، کسی مومن کوتکلیف میں مبتلا نہ دیکھ سکتے تھے،بلکہ اپنے مال ومتاع کو اس کی جان پرفوقیت دیتے تھے۔اسی وجہ سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سات غلاموں کو خرید کر آزاد فرما دیا۔دوسرا یہ کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہشروع سے ہی نیک خصلت تھے اورکفاربھی جانتے تھے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنیکیوں میں سبقت کرتے ہیں۔