سخت آزمائش
حضرت سیدنابلال حبشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجن کی والدہ کا نام حمامہ ہے،یہ سچے مومن اور پاکیزہ دل غلام تھے،ان کا مالک اُمَیَّہ بِنْ خَلْف انہیں سخت کڑکتی دھوپ میں لے جا کر مکہ سے باہر دہکتی ہوئی ریت پر چت لٹاکر سینے پر ایک بڑا پتھر رکھ دیتا اور کہتا:’’مُحمّدکاانکارکرو ہمارے خدائوں کی پرستش کرو، نہیں تو یونہی بلکتے مرجائو گے ۔‘‘حضرت سیدنابلال حبشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہصرف یہی جواب دیتے : اَحَد اَحَد(یعنی اللہ صرف ایک ہے ،وہ لاشریک ہے)بسا اوقات سیدناورقہ بن نوفل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا وہاں سے گزرہوتا تو سیدنابلال حبشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی آواز سن کر وہ بھی اَحَد اَحَدپکار اٹھتے،پھر وہ اُمیہ سے مخاطب ہوتے: ’’اگر تم نے اسے اسی طرح جان سے مار دیا تو مجھے انتہائی صدمہ ہوگا۔‘‘ (الریا ض النضرۃ،ج۱، ص ۱۳۳تا۱۳۴)
حضرت سیدنا بلال کی آزادی
ایک دن حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاس جگہ سے گزرے جہاں حضرت سیدنابلال حبشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو ظلم کا نشانہ بنایا جارہا تھا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا مکی گھر بَنِی جُمَح میں تھاآپ نے اُمیہ بن خلف کو ڈانٹتےہوئے کہا: ’’اس مسکین کو ستاتے ہوئے تجھے اللہ سےڈر نہیں لگتا؟کب تک ایسا کرتا رہے گا؟‘‘وہ کہنے لگا:’’ابوبکر!تم نے ہی اسے خراب(یعنی مسلمان)کیاہے تم ہی اسے چھڑالو۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’میرے پاس بلال سے زیادہ تندرست و توانا غلام ہے، بلال مجھے دے کر وہ تم لے لو۔‘‘کہنے لگا:’’ منظور ہے۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےکچھ رقم اورغلام کے عوض انہیں خریدکر آزادکردیا۔اس کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مزید چھ ایسے ہی غلام آزاد کیے۔ سیدنا عامر بن فہیرہ، سیدتنا اُمّ عبیس، سیدتنا زبیرہ ۔سیدتنا زبیرہ کو جیسے ہی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے آزاد کیا تو ان کی بینائی زائل ہوگئی۔ قریش نے یہ دیکھ کر کہا:’’ لات و عزیٰ نے اس کی بینائی سلب کرلی ہے۔‘‘ سیدتنا زبیرہ کہنے لگیں: یہ جھوٹ کہتے ہیں،بیت اللہ کی قسم! لات و عزیٰ نہ توکسی کو نفع دے سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی نقصان،یہ کہناتھاکہ ان کی بینائی لوٹ آئی۔