Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
117 - 691
صدیق اکبر کا غلاموں کو آزاد کرنا
خیرخواہی کابےمثال جذبہ
حضرت سیدناعروہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایسےسات غلام خرید کر آزاد کیے جنہیں راہ خدا میں بہت تکالیف دی جاتی تھیں۔ان میں حضرت سیدنابلال حبشی اورسیدنا عامربن فہیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابھی ہیں۔ (مجمع الزوائد،کتاب المناقب،باب جامع من فضلہ ،الحدیث :۱۴۳۴۰، ج۹،ص۳۵)
سات غلاموں کے نام
حضرت ہشام بن عروہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے راہِ خدامیں ستائے جانے والے جن غلاموں کو خرید کر آزاد کیاان کے نام یہ ہیں:(۱)سیدنابلال (۲)سیدناعامر بن فہیرہ (۳)سیدنازبیرہ(۴) سیدتنااُمّ عبیس(۵) سیدتنانہدیہ (۶) ان کی بیٹی (۷) اور ابن عمرو بن مومل کی لونڈی۔(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم)	 (الریاض النضرۃ،ج۱، ص۱۳۳) 
100سواوقیہ سونا
حضرت سیدنا بلال حبشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکواسلام لانے کے بعدبہت اذیتیں دی جاتی تھیں،حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنابلال حبشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکوپانچ اوقیہ( تقریبا۳۲تولے )سونا ادا کرکے خریداتو فروخت کرنے والوں نے کہا: ’’ابوبکر ! اگر تم صرف ایک اوقیہ سونے پر اَڑ جاتے توہم اتنی قیمت میں ہی اسے فروخت کردیتے۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’ اگر تم سوا وقیہ سونا مانگتے تو میں وہ بھی دے دیتا اور بلال کو ضرور خریدتا۔‘‘  (الریا ض النضرۃ،ج۱ص۱۳۳)