اسے پیش کیااور عرض کیا:’’یارسولاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذمہ کرم پرہی میری عاقبت موقوف ہے۔‘‘ (حلیۃ الاولیاء، ابوبکر الصدیق،الحدیث: ۶۹، ج۱،ص۶۶)
رسول اللہ کی مالی خدمت
اسلام قبول کرنے کے بعد سے ہجرت مدینہ تک آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاسلام کی مالی خدمت کرتے رہے لہٰذا ہجرت کے وقت آپ کے پاس کل مال پانچ یا چھ ہزار درہم تھاجوآپ نےاپنے ساتھ لے لیا۔(اور رسولاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پرصرف کردیا۔) (السیرۃ النبویۃ لابن ھشام،ھجرۃ الرسول،ابوقحافۃ و اسماء بعد ھجرۃ ابی بکر،ج۱،ص۴۴۱)
رسول خدا کی گواہی
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نبیٔ کریم ،رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اتنی مالی خدمت کی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خود ارشادفرمایا:’’مجھے کسی کے مال نے اتنا فائدہ نہ دیا جتنا ابوبکر صدیق کے مال نے دیا۔‘‘
(سنن ابن ماجۃ،کتاب السنۃ، باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ، الحدیث:۹۴،ج۱،ص۷۲)
اپنے ہی مال جیسا تصرف
آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مال میں اپنے مال جیسا ہی تصرف فرماتے تھے۔ (المصنف لعبدالرزاق، کتاب الجامع، باب اصحاب النبی، الحدیث:۴۸۴۸،ج۱۰،ص۲۲۲)
مسلمانوں کی مالی خدمت
غزوۂ تبوک کے موقعہ پر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مالی خدمت کا ایسا عظیم مظاہرہ فرمایا کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےاپنا سارا مال اسلام اور مسلمانوں پرنچھاور کردیا حتی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے توببول کے کانٹوں والا چوغہ پہنے ہوئے تھے۔ (تاریخ مدینۃ دمشق،ج۳۰، ص۷۱)