اسلام کی مدد ونصرت کے لیے کھلے دل سے اپنا ذاتی مال بھی خرچ کیا، مظلوم ومساکین مسلمانوں کی جو مالی امداد آپ نے کی اس دور میں کسی نے نہ کی، اعلیٰ درجے کے سخی اور نہایت ہی وسیع ظرف تھے۔ مشرکین مکہ ان لوگوں کو خاص طور پر بے دردی کے ساتھ ظلم وستم کا ہدف بناتے تھے جن کا تعلق کمزور گھرانوں سے ہوتایا جو غلامی کی زندگی بسر کرتے تھےاور کوئی ان کا پرسان حال نہ تھا،ایسے مظلوم ومقہور اور ستم زدہ لوگوں کوظلم وستم اورقہر وجبرسے آزاد کروانا آپ کی اعلیٰ صفات میں شامل تھا بلکہ آپ مظلومین ومستحقین کی تلاش میں رہا کرتے تھے جہاں کوئی ایسا شخص ملتااس کی مدد کرنا اپنے اوپر لازم کرلیتے، جس طرح آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاپنی گفتارمیں حلیم تھے اسی طرح اپنی عادات واطوارمیں بھی مسلمانوں کے سچے معین تھے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سخاوت کے چند گوشے پیش خدمت ہیں:
آیت مبارکہ اور سخاوت صدیق اکبر
(الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰىۚ(۱۸)) (پ۳۰،اللیل:۱۸)ترجمۂ کنزالایمان:’’جو اپنا مال دیتا ہے کہ ستھرا ہو۔‘‘یہ آیت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی مالی سخاوت پر دلیل ہےاور مفسرین کرام کا اس بات پراجماع ہے کہ یہ آیت مبارکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہہی کے حق میں نازل ہوئی۔
اسلام کی مالی خدمت
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہچونکہ ایک کاروباری آدمی تھے اور کپڑے کا وسیع کاروبار کرتے تھے،لہٰذاجس دن اسلام لائے آپ کے پاس چالیس ہزار درہم یادینارتھے ، سارے کے سارے راہ خدا میں خرچ کردیے۔
(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، عبداللہ بن ابی قحافۃ،الرقم:۱۶۵۱، ج۳، ص۹۴، تاریخ مدینۃ دمشق،ج۳۰، ص۶۶)
عاقبت اللہ کے ذمہ کرم پر
ایک بار آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں صدقہ لے کر حاضر ہوئے اور چھپا کر