Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
114 - 691
سب سے پہلے پلٹنے والے محافظ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی وفاؤں کے مہکتے پھول جو سرور دوعالم، نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں نچھاور کیے اس کا ایک عظیم مظاہرہ جنگ اُحد کے دن دیکھا گیا جب خارا شگاف تلواریں میدان کارزار میں چل رہی تھیں ،ہر طرف جنگی نعروں کا شوربرپاتھا ان ہوش ربا مناظر میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک کوہ بے ستون نظر آرہے تھے اور حضور نبی ٔکریم رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں اپنی جان کو طشت اخلاص میں رکھ کر پیش کررہے تھے ، وہ اُحد کی جنگ جس میں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی جانی قربانیاں دیکھ کر شیروں کاپِتّاا بھی پانی ہورہا تھاحضرت سیدنامصعب بن عمیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مدینہ طیبہ کے پہلے معلم علمبردار اسلام،نیزحضرت سیدناحمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبھی جام شہادت نوش کرچکے تھے ،یقینا ان جان کاہ وجگر فرسا مناظر کو دیکھ کر جگر کو تھامنا مشکل ہو جاتا ہے ایسے میں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  جنگ میں اس طرح مصروف ہوئے کہ لڑتے لڑتے بہت دور نکل گئے اگرکوئی محبوب خدا کے قریب تھاتووہ صرف حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہہی تھے۔چنانچہ اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے فرماتی ہیں: ’’اُحدکےدن جب تمام صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے جدا ہوگئے تھے توسب سے پہلے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس آپ کی حفاظت کے لیے حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ واپس پلٹے۔‘‘	
							    (تاریخ مدینۃ دمشق،   ج۲۵،ص۷۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صدیق اکبر  کی سخاوت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نہ صرف اسلام کی تبلیغ کی بلکہ دین