آل فرعون کا مومن کون تھا؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ بالا حدیث میں حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے آل فرعون کے جس مومن کا ذکر فرمایا ہےوہ قبطی قوم کا ایک فردتھا جوحضرت سیدنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لا چکاتھا لیکن اس نے اپنا ایمان چھپایا ہواتھا،اپنی قوم کو اپنے ایمان سے آگاہ نہیں کیا تھا اس نےجب سناکہ فرعون اپنے رفقاء کے ساتھ حضرت سیدنا موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو قتل کرنے کے منصوبے بنارہاہے تو اس نے ان کو اس ارادے سے باز رکھنے کی تلقین شروع کی،پہلے تو اس نے انہیں جھڑکا کہ’’تم موسی (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام)کے درپے کیوں ہو، اس نے تمہارا کیا جرم کیا ہے؟ اس نے کون سی قانون شکنی کی ہے؟ محض اس لیے تم اسے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتاہے: میرا پروردگار اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے اور اس نے اپنے عقیدہ کی حقانیت دلائل ومعجزات سے ثابت کردی ہے تمہارا معاشرہ تو بڑا ترقی یافتہ ہے تم ان کے ذاتی عقیدے میں کیوں دخل دیتے ہو ان کو اپنے حال پر چھوڑ دو۔ اگر بالفرض وہ غلط ہے تو خود ہی اپنے انجام تک پہنچ جائے گا ہمیں اپنے ہاتھ اس کے خون سے رنگنے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘اس مومن کا ذکرپارہ۲۴، سورۃ المؤمن، آیت نمبر۲۸ میں یوں کیاگیاہے: (وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ ﳓ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْؕ-وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗۚ-وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ(۲۸)) ترجمہ کنزالایمان:’’اوربولا فرعون والوں میں سے ایک مرد مسلمان کہ اپنے ایمان کو چُھپاتا تھا کیا ایک مرد کو اس پر مارے ڈالتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور بے شک وہ روشن نشانیاں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے لائے اور اگر بالفرض وہ غلط کہتے ہیں تو ان کی غلط گوئی کا وبال ان پر اور اگر وہ سچے ہیں تو تمہیں پہنچ جائے گا کچھ وہ جس کا تمہیں وعدہ دیتے ہیں بےشک اللہ راہ نہیں دیتا اسے جو حد سے بڑھنے والا بڑا جھوٹا ہو۔‘‘