ہر گز تیری مذمت نہیں کی۔‘‘تو وہ یہ کہتی ہوئی چلی گئی کہ’’ سارے قریش کوپتا ہے کہ میں ان کے سردار کی بیٹی ہوں۔‘‘
(تاریخ الاسلام للذھبی، ج۱،ص۱۴۶، المطالب العالیۃ للعسقلانی،کتاب التفسیر، سورۃ تبت، الحدیث: ۳۷۹۷، ج۸، ص۳۰۶، الریاض النضرۃ، ج۱،ص۹۵)
آل فرعون کے مومن سے بہتر
حضرت سیدناعلی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمارشادفرماتے ہیں کہ ایک دن میں نے دیکھا کہ کفارقریش نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو گھیر رکھاہے اورآپ کومختلف قسم کی تکلیفیں دے رہے ہیں،ایک شخص آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپردست درازی کررہاہے تو دوسرا نہایت ہی سختی سے زدوکوب کررہاہےاوروہ ساتھ ہی ساتھ یہ بکواس بھی کرتا جارہا ہے کہ’’ توہی ہے جس نے تمام خداؤں کو چھوڑ کر ایک خدا بنالیا ہے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’خدا کی قسم!اس وقت پیارے آقا، دوعالم کے مالک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کوئی بھی قریب نہ گیا سوائے حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے، آپ ایک قریشی کو پیٹتے اور دوسرے کو دھکا دیتے تیسرے پردباؤ ڈالتے ہوئے سب کوپیچھے ہٹانے لگے اور ساتھ ساتھ یہ بھی فرماتے جاتے: ’’افسوس ہے تم پر! ایسی شخصیت کو شہید کرنا چاہتے ہو جس کا کہنا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔‘‘
یہ فرمانے کے بعد حضرت سیدناعلی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اپنے اوپرسے چادر اٹھائی اورزارو قطار رونے لگے اور اتنا روئے کہ آپ کی ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہوگئی، پھرارشاد فرمایا:’’میں تمہیں خدا کا واسطہ دے کر پوچھتاہوں مجھے بتاؤ کہ’’ آل فرعون کا مومن برتر تھا یا حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ؟‘‘تمام لوگ خاموش رہے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:’’ مجھے جواب کیوں نہیں دیتے؟خداکی قسم! حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حیات طیبہ کا ایک لمحہ آ ل فرعون کے مومن جیسے شخص کے ہزاروں لمحات سے بہتر ہے، ارے وہ شخص تواپنے ایمان کو چھپایاکرتا تھا اور یہ پاکیزہ ہستی اپنے ایمان کااعلانیہ اظہار کرتی تھی۔‘‘ (مسند البزار،ومما روی محمدبن عقیل عن علی، الحدیث: ۷۶۱، ج۳، ص۱۴، تاریخ الخلفاء، ص۲۸)