Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
111 - 691
ہوئے ارشادفرمانے لگے:’’ کیا تم ایسے شخص کو مارنا چاہتے ہو جویہ کہتاہے کہ میرا معبود صرف ایک اللہ  ہےاوروہ اپنی نبوت پرواضح دلائل بھی پیش کرچکاہے،اگر وہ غلط بیانی اور جھوٹ سے کام لیتاہے تو یہ خوداس کے لیے وبال ہے اور اگروہ اپنی بات میں سچا ہے تو اس کی بات مان لینے میں تمہاری عاقبت کی خیر ہے۔‘‘ (السنن الکبری للنسائی، سورۃ غافر، الحدیث:۱۱۴۶۲،ج۶، ص۴۴۹، نوادر الاصول، الاصل الثانی عشر والمائتان الحدیث:۱۰۷۵، ج۲، ص۷۷۷،الریاض النضرۃ، ج۲،ص۹۴)
دشمن کی نظروں سے اوجھل
حضرت سیدتنااسماء بنت ابی بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:’’ تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ(۱) (پ۳۰،اللھب:۱)ترجمۂ کنزالایمان:تباہ ہو جائیں ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ ہو ہی گیا ۔‘‘تو ابولہب کی بیوی اُمّ جمیل عورابنت حرب چیختی چنگاڑتی ہاتھ میں پتھرلیے آئی اور کہنے لگی:’’ہم اپنی مذمت کرنے والےکی مخالفت کرتے ہیں، اس کے دین کے دشمن ہیں اورجس بات کی وہ دعوت دے رہاہے اسے کبھی تسلیم نہ کریں گے۔‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  مسجد حرام میں جلوہ گر تھے، حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبھی آپ کےساتھ ہی تھے، حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسے اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا: ’’یارسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ عورت آپ کی طرف آرہی ہے کہیں آپ کو دیکھ نہ لے۔‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’یہ ہر گز مجھے نہ دیکھ سکے گی، پھر آپ نے قرآن پڑھنا شروع کردیا اور اس کی نظروں سے اوجھل ہوگئے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پارہ ۱۵سورۃ بنی اسرائیل، آیت ۴۵ میں ارشادفرماتا ہے:’’ وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ ‘‘ترجمۂ کنزالایمان: اور اے محبوب! تم نے قرآن پڑھا ہم نے تم پر اور ان میں کہ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ایک چُھپا ہوا پردہ کر دیا۔‘‘ جب وہ عورت حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس آکر کھڑی ہوئی تونورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو نہ دیکھ پائی، بولی: ’’ابوبکر!تیرے دوست نے میری مذمت کی ہے۔‘‘ فرمایا: ’’رب ِکعبہ کی قسم! انہوں نے