Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
110 - 691
تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا :’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میرے ماں باپ آپ پر قربان، میں ٹھیک ہوں بس چہرہ تھوڑا زخمی ہوگیاہے۔‘‘ جس دن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو تکالیف دی گئیں اسی روزآپ کی والدہ حضرت سیدتنا ام سلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَااورحضرت سیدناامیر حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبھی اسلام لے آئے تھے۔   (تاریخ مدینہ دمشق،ج۳۰،ص۴۹،البدایۃ والنھایۃ، ج۲، ص۳۶۹)
مُحَمَّد کی محبت میں ہزاروں ظلم سہتے تھے
خدا پر تھی نظر ان کی زباں سے کچھ نہ کہتے تھے
نہیں سرکار! ذاتی دشمنی میری کسی سے بھی
مری ہے آپ کی خاطر لڑائی یارسولَ اللہ !
یِہی ہے جُرم میرا آپ کا میں ادنیٰ خادِم ہوں
ہے میں نے آپ سے ہی لو لگائی یارسولَ اللہ !
کسی صورت بھٹک سکتا نہیں میں تیری اُلفت سے
مجھے حاصِل ہے تیری رہنمائی یارسولَ اللہ !
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
طواف کعبہ سے روک دیا
حضرت سیدناعمروبن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ اس دن سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو مشرکین مکہ سے سب سے زیادہ اذیت پہنچی تھی جب آپ چاشت کے وقت طوافِ کعبہ فرمارہے تھے کہ مشرکین آپ کے راستے میں حائل ہوگئے اورطواف سے روک دیااور آپ کے دونوں کندھے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے بولے:’’ کیا تم ہی ہو جو ہمیں اپنے آباء و اجداد کے خدائوں کی پرستش سے منع کرتے ہو؟‘‘آپ نے فرمایا:’’ہاں!میں ایسا ہی کرتا ہوں۔‘‘حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہآپ کے پیچھے پیچھے تھے، جب یہ معاملہ دیکھاتوفوراًسامنے آگئے اورروتے