Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
109 - 691
صرف ان کی خبردو۔‘‘ یہ حالت دیکھ کر آپ کی والدہ کہنے لگیں:’’اللہ  کی قسم! مجھے آپ کے دوست کی خبر نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں؟‘‘ آپ نے کہا: ’’آپ اُمّ جمیل بنت خطاب (یعنی حضرت عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بہن اورحضرت سیدناسعیدبن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ)کے پاس چلی جائیں اور ان سے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بارے میں دریافت کریں۔‘‘آپ کی والدہ دوڑی دوڑی اُمّ جمیل بنت خطاب کے پاس آئیں اور کہا کہ’’میرا بیٹاابوبکر آپ سے اپنے دوست محمد بن عبداللہ  کے بارے میں پوچھ رہا ہےکہ وہ کیسے ہیں؟‘‘(اُمّ جمیل بھی اسلام لاچکی تھیں چونکہ انہیں ابھی اسلام خفیہ رکھنے کا حکم تھا اس لئے) انہوں نے کہا:’’میں ابوبکر اور ان کے دوست محمد بن عبداللہ  کو نہیں جانتی، ہاں! اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے ساتھ آپ کے بیٹے کے پاس چلتی ہوں۔‘‘ دونوںحضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس پہنچیں تواُمّ جمیل بنت خطاب آپ کو زخمی اور نڈھال دیکھ کر بے ساختہ پکار اٹھیں :’’خدا کی قسم! ان لوگوں نے فاسقوں اورکافروں کی خاطر آپ کو یہ اذیت دی ہے مجھے امید ہے کہ اللہ  تعالٰی ان سے ضرور بدلہ لے گا۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان سےیہی پوچھا کہ ’’رسولاللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکس حال میں ہیں؟‘‘ انہوں نے آپ کی والدہ کی طرف اشارہ کیا کہ یہ سن رہی ہیں۔ آپ نے فرمایا:’’ان کی فکر نہ کرو تم بیان کرو۔‘‘ انہوں نے کہا:’’آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممحفوظ ہیں اوربالکل خیریت سے ہیں۔‘‘ آپ نے پوچھا : ’’حضورصَلَّی اللہُ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاس وقت کہاں ہیں؟‘‘ انہوں نے جواب دیا:’’ دار ارقم میں تشریف فرما ہیں۔‘‘ فرمایا:’’خدا کی قسم!میں اس وقت تک نہ کچھ کھاؤں گا اور نہ پیوں گا جب تک سرکار صَلَّی اللہُ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکوبذات خود نہ دیکھ لوں۔‘‘بہرحال جب سب لوگ چلے گئے تو آپ کی والدہ اوراُمّ جمیل بنت خطاب یہ دونوں آپ کو سہارا دے کر سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں لے گئیں۔جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے اس عاشق زار کو دیکھاتوآبدیدہ ہوگئے اورآگے بڑھ کر تھام لیا، ان کے بوسے لینے لگے۔ یہ پر بہار معاملہ دیکھ کرتمام مسلمان بھی فرطِ جذبات میں آپ کی طرف لپکے۔ آپ کو زخمی دیکھ کر سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر بڑی رقت طاری ہوئی۔حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ